سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
22. بَابُ: اسْتِقَالَةِ الْبَيْعَةِ
باب: بیعت توڑنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4190
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا بَايَعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْإِسْلَامِ، فَأَصَابَ الْأَعْرَابِيَّ وَعْكٌ بِالْمَدِينَةِ، فَجَاءَ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَقِلْنِي بَيْعَتِي؟ فَأَبَى , ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ: أَقِلْنِي بَيْعَتِي؟ فَأَبَى , فَخَرَجَ الْأَعْرَابِيُّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْمَدِينَةُ كَالْكِيرِ تَنْفِي خَبَثَهَا، وَتَنْصَعُ طِيبَهَا".
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اسلام پر بیعت کی، پھر اس کو مدینے میں بخار آ گیا، تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر کہا: اللہ کے رسول! میری بیعت توڑ دیجئیے ۱؎، آپ نے انکار کیا، اس نے پھر آپ کے پاس آ کر کہا: میری بیعت توڑ دیجئیے، آپ نے انکار کیا، تو اعرابی چلا گیا ۲؎، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ تو بھٹی کی طرح ہے جو اپنی گندگی کو نکال پھینکتا ہے اور پاکیزہ کو اور خالص بنا دیتا ہے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4190]
حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دستِ مبارک پر قبولِ اسلام کی بیعت کی، پھر اس اعرابی کو مدینہ منورہ میں تپ چڑھ گیا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری بیعت واپس فرما دیجیے۔ آپ نے انکار کر دیا، وہ دوبارہ آیا اور پھر کہنے لگا: میری بیعت واپس فرما دیجیے۔ آپ نے پھر انکار فرمایا۔ آخر وہ اعرابی (بلا اجازت) چلا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مدینہ منورہ بھٹی کی طرح ہے، میل کچیل کو نکالتا رہتا ہے اور خالص چیز کو باقی رکھتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4190]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/فضائل المدینة 10 (1883)، الأحکام 45 (7209)، 47 (7211)، 5 (7216)، الاعتصام 16 (7322)، صحیح مسلم/الحج 88 (1381)، سنن الترمذی/المناقب 68 (3920)، (تحفة الأشراف: 3071)، موطا امام مالک/الجامع 2 (4)، مسند احمد (3/306، 365، 392) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ وہ اس بیماری کو بیعت کی نحوست سمجھ بیٹھا تھا۔ ۲؎: یعنی مدینہ سے چلا گیا، تاکہ اپنے خیال میں اس نحوست سے نجات پا جائے، اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ کسی خلیفہ (حکمراں) سے خلافت کی بیعت، یا کسی خاص بات کو توڑنا جائز نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه