سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. بَابُ: مَنْ لَمْ يُعِنْ أَمِيرًا عَلَى الظُّلْمِ
باب: ظلم میں امیر کی مدد نہ کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4213
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاق، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الْوَهَّابِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ، قَالَ: خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ تِسْعَةٌ: خَمْسَةٌ وَأَرْبَعَةٌ , أَحَدُ الْعَدَدَيْنِ مِنَ الْعَرَبِ، وَالْآخَرُ مِنَ الْعَجَمِ، فَقَالَ:" اسْمَعُوا، هَلْ سَمِعْتُمْ أَنَّهُ سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، مَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ".
کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، ہم نو لوگ تھے، پانچ ایک طرح کے اور چار دوسری طرح کے، ان میں سے کچھ عرب تھے اور کچھ عجم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! کیا تم نے سنا؟ میرے بعد عنقریب کچھ امراء ہوں گے، جو ان کے یہاں جائے گا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ظلم میں ان کی مدد کرے گا تو وہ میرا نہیں اور نہ میں اس کا ہوں، اور نہ وہ میرے پاس (قیامت کے دن) حوض پر نہ آ سکے گا، اور جو ان کے ہاں نہیں گیا، ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی، اور ظلم میں ان کی مدد نہیں کی تو وہ میرا ہے اور میں اس کا ہوں اور عنقریب وہ میرے پاس حوض پر آئے گا“۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4213]
حضرت کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نو آدمی تھے۔ پانچ عربی، چار عجمی یا چار عربی اور پانچ عجمی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو! کیا تم سن رہے ہو؟ یقیناً میرے (فوت ہونے کے) بعد کچھ ایسے امیر ہوں گے کہ جو شخص ان کے پاس جائے گا، پھر ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا، اور ان کے ظلم میں ان کا ساتھ دے گا، نہ اس کا مجھ سے تعلق ہے اور نہ میرا اس سے۔ اور وہ میرے پاس حوضِ کوثر پر نہیں آ سکے گا۔ اور جو شخص ان کے پاس نہ گیا (یا گیا لیکن) ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی اور ظلم میں ان کا ساتھ نہ دیا، وہ میرا ہے، میں اس کا ہوں اور وہ ضرور میرے پاس حوضِ کوثر پر حاضری کی سعادت حاصل کرے گا۔“ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4213]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح