سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
39. بَابُ: مَا يُكْرَهُ مِنَ الْحِرْصِ عَلَى الإِمَارَةِ
باب: منصب اور سرداری کی خواہش ناپسندیدہ عمل ہے۔
حدیث نمبر: 4216
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ آَدَمَ بْنِ سُلَيْمَانِ , عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ , عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ , عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ , عَنِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ:" إنَّكُمْ سَتَحْرِصُونَ عَلَى الإِمارَةِ , وَإنَّهَا سَتَكُونُ نَدَامَةً وَحَسْرَةً , فَنَعِمَتِ المُرْضِعَةُ , وَبَئِسَتِ الْفَاطِمَةُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم لوگ امارت و سرداری کی خواہش کرو گے لیکن وہ باعث ندامت و حسرت ہو گی، اس لیے کہ دودھ پلانے والی کتنی اچھی ہوتی ہے، اور دودھ چھڑانے والی کتنی بری ہوتی ہے“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4216]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب تم لوگ امارت (اقتدار و سرداری) کی حرص کرو گے اور بلاشبہ یہ (قیامت کے دن) ندامت و شرمندگی اور حسرت و افسوس (کا سبب) ہو گی۔ یہ دودھ پلاتے اچھی لگتی ہے مگر دودھ چھڑاتے ہوئے بری محسوس ہوتی ہے۔“ (اس کی ابتدا اچھی معلوم ہوتی ہے لیکن انجام برا ہو گا)۔ [سنن نسائي/كتاب البيعة/حدیث: 4216]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الأحکام 7 (7148)، (تحفة الأشراف: 13017)، مسند احمد (2/448، 476) ویأتي عند المؤلف في القضاء (برقم5387) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی حکومت ملتے وقت وہ بھلی لگتی ہے اور جاتے وقت بری لگتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري