سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ: الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ
باب: چوہیا گھی میں گر جائے تو کیا کیا جائے؟
حدیث نمبر: 4263
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ فَأْرَةً وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ , فَمَاتَتْ فَسُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ:" أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا وَكُلُوهُ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گر کر مر گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا؟ آپ نے فرمایا: ”اسے اور اس کے اردگرد گھی کو نکال کر پھینک دو اور پھر اسے کھاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4263]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک چوہیا گھی میں گری اور مر گئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے (اس کے متعلق) سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا: ”چوہیا اور اس کے ارد گرد گھی کو پھینک دو اور باقی کھا لو۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4263]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الوضوء 67 (235، 236)، الذبائح 34 (5538، 5539، 5540)، سنن ابی داود/الأطعمة 48 (3841، 3842، 3843)، سنن الترمذی/الأطعمة 8 (1799)، (تحفة الأشراف: 18065)، موطا امام مالک/الاستئذان 7 (20)، مسند احمد (6/329، 330، سنن الدارمی/الطھارة 59 (765) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري
حدیث نمبر: 4264
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ، وَمُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّيْسَابُورِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ وَقَعَتْ فِي سَمْنٍ جَامِدٍ؟، فَقَالَ:" خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَأَلْقُوهُ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہیا کے بارے میں پوچھا گیا جو کسی جمے ہوئے گھی میں گر جائے تو آپ نے فرمایا: ”اسے اور اس کے اردگرد کے گھی کو لے کر پھینک دو“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4264]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ جمے ہوئے گھی میں چوہا گر گیا ہے (اسے کیا کیا جائے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چوہے اور اس کے ارد گرد کے گھی کو نکال پھینکو۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4264]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن
حدیث نمبر: 4265
أَخْبَرَنَا خُشَيْشُ بْنُ أَصْرَمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بُوذُوَيْهِ، أَنَّ مَعْمَرًا ذَكَرَهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ , عَنِ الْفَأْرَةِ تَقَعُ فِي السَّمْنِ، فَقَالَ:" إِنْ كَانَ جَامِدًا فَأَلْقُوهَا، وَمَا حَوْلَهَا، وَإِنْ كَانَ مَائِعًا فَلَا تَقْرَبُوهُ".
ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس چوہیا کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گر جائے؟ تو آپ نے فرمایا: ”اگر گھی جما ہوا ہو تو اسے اور اس کے اردگرد کے گھی کو نکال پھینکو اور اگر جما ہوا نہ ہو تو تم اس کے قریب نہ جاؤ“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4265]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا: چوہا گھی میں گر جائے تو (کیا کیا جائے؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر (گھی) جما ہوا ہو تو چوہا اور اس کے اردگرد والا گھی باہر پھینک دو (اور باقی کو استعمال کر لو) لیکن اگر وہ پگھلا ہوا ہے تو اس کے قریب بھی نہ جاؤ۔“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4265]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (شاذ) (معمر کے سوا زہری کے اکثر تلامذہ اس کو بغیر تفصیل کے روایت کرتے ہیں جیسے پچھلی دونوں روایتوں میں ہے)»
وضاحت: ۱؎: سند اور علم حدیث کے قواعد کے لحاظ سے یہ حدیث درجہ میں پہلی حدیث سے کم تر ہے، اور اس کے مخالف ہونے کی وجہ سے ”شاذ“ ہے، لیکن پہلی حدیث کے مضمون ہی سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ اسی قسم کے گھی کا ”اردگرد“ ہو سکتا ہے جو جامد ہو، اور اگر سیال (بہنے والا) ہو تو اس کا ”اردگرد“ کیسے ہو سکتا ہے؟ اسی لیے بہت سے علماء اس حدیث کے مطابق فتوی دیتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: شاذ
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (3843) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 353
حدیث نمبر: 4266
أَخْبَرَنَا سَلَمَةُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سُلَيْمِ بْنِ عُثْمَانَ الْفَوْزِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَدِّي الْخَطَّابُ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ثَابِثُ بْنُ عَجْلَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، يَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِعَنْزٍ مَيِّتَةٍ , فَقَالَ:" مَا كَانَ عَلَى أَهْلِ هَذِهِ الشَّاةِ لَوِ انْتَفَعُوا بِإِهَابِهَا".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے تو فرمایا: ”اس بکری والوں پر کوئی حرج نہ ہوتا اگر وہ اس کی کھال (دباغت دے کر) سے فائدہ اٹھا لیتے“۔ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4266]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مردہ بکری کے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اس بکری کے مالک اس کے چمڑے سے فائدہ اٹھا لیتے تو کیا حرج تھا؟“ [سنن نسائي/كتاب الفرع والعتيرة/حدیث: 4266]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الذبائح 30 (5532)، (تحفة الأشراف: 5446) (صحیح الإسناد)»
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح بخاري