🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. بَابُ: الْحَلِفِ الْوَاجِبِ لِلْخَدِيعَةِ فِي الْبَيْعِ
باب: خرید و فروخت میں دھوکہ میں ڈال دینے والی قسم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4467
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" ثَلَاثَةٌ لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ، وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَلَا يُزَكِّيهِمْ، وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ، رَجُلٌ عَلَى فَضْلِ مَاءٍ بِالطَّرِيقِ يَمْنَعُ ابْنَ السَّبِيلِ مِنْهُ، وَرَجُلٌ بَايَعَ إِمَامًا لِدُنْيَا إِنْ أَعْطَاهُ مَا يُرِيدُ وَفَّى لَهُ، وَإِنْ لَمْ يُعْطِهِ لَمْ يَفِ لَهُ، وَرَجُلٌ سَاوَمَ رَجُلًا عَلَى سِلْعَةٍ بَعْدَ الْعَصْرِ فَحَلَفَ لَهُ بِاللَّهِ لَقَدْ أُعْطِيَ بِهَا كَذَا وَكَذَا فَصَدَّقَهُ الْآخَرُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین لوگ ہیں قیامت کے دن اللہ ان کی طرف نہیں دیکھے گا اور نہ انہیں گناہوں سے پاک کرے گا، ان کے لیے درد ناک عذاب ہے: ایک شخص وہ ہے جو راستے میں فاضل پانی کا مالک ہو اور مسافر کو دینے سے منع کرے، ایک وہ شخص جو دنیا کی خاطر کسی امام (خلیفہ) کے ہاتھ پر بیعت کرے، اگر وہ اس کا مطالبہ پورا کر دے تو عہد بیعت کو پورا کرے اور مطالبہ پورا نہ کرے تو عہد بیعت کو پورا نہ کرے، ایک وہ شخص جو عصر بعد کسی شخص سے کسی سامان پر مول تول کرے اور اس کے لیے اللہ کی قسم کھائے کہ یہ اتنے اتنے میں لیا گیا تھا تو دوسرا (یعنی خریدنے والا) اسے سچا جانے (حالانکہ اس نے اس سے کم قیمت میں خریدی تھی) ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4467]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تین شخص ایسے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ان سے کلام نہیں فرمائے گا، نہ ان کو دیکھے گا اور نہ ان کو پاک ہی کرے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔ ایک وہ آدمی جس کے ہاں گزرگاہ کے پاس (اس کی ضرورت سے) فالتو پانی ہے لیکن وہ مسافر کو پانی لینے سے روک دے۔ دوسرا وہ آدمی جو صرف دنیوی مفاد کی خاطر کسی امام سے بیعت کرتا ہے، اگر امام اس کو اس کی منشا کے مطابق دیتا رہے تو وہ بیعت پر قائم رہتا ہے اور اگر نہ دے تو توڑ دیتا ہے۔ تیسرا وہ شخص جو کسی آدمی سے عصر کے بعد سامان کا بھاؤ کرتا ہے اور اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ اس سامان کے بدلے اسے اس قدر رقم ملتی تھی (حالانکہ اسے اتنی رقم نہیں ملتی تھی)، دوسرا اس کی تصدیق کر دیتا ہے (اور سامان خرید لیتا ہے)۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4467]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 22 (2672)، الأحکام 48 (7212)، صحیح مسلم/الإیمان46(108)، سنن ابی داود/البیوع 62 (3474)، (تحفة الأشراف: 12338)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/السیر 35 (1595)، سنن ابن ماجہ/التجارات 30 (2207)، الجہاد 42 (2870)، مسند احمد (2/253، 480) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے عصر کے بعد کے وقت خرید و فروخت میں جھوٹی قسم کھانے پر وعید ہے، اس سے جہاں یہ حکم ثابت ہوا وہیں پر عصر کے بعد کی فضیلت ثابت ہوئی، اس وقت رب کی مرضی کے خلاف اس طرح کا اقدام جس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت و تقدیس کا سہارا لے کر آدمی دنیاوی ترقی کا خواہش معیوب ہے، جب کہ جھوٹ بول کر اور جھوٹی گواہی کے ذریعہ مقاصد حاصل کرنا ہر وقت معیوب اور غلط ہے، عصر بعد مزید شناعت و برائی ہے، شاید یہ وقت بازار کی بھیڑ اور اس میں لوگوں کے ریل پیل کا ہوتا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں