سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. بَابُ: النَّجْشِ
باب: فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4509
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ , عَنْ مَالِكٍ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَهَى عَنِ النَّجْشِ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے سے منع فرمایا ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4509]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ”حیلے کے ساتھ بھاؤ بڑھانے“ سے منع فرمایا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4509]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الحیل 6 (6963)، صحیح مسلم/البیوع 4 (1516)، سنن ابن ماجہ/التجارات 14 (2173)، (تحفة الأشراف: 8348)، موطا امام مالک/البیوع 45 (97)، مسند احمد (2/7، 63، 91، 156)، سنن الدارمی/البیوع 33 (2609) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: «نجش» : ایک چیز کا خریدنا مقصود نہ ہو لیکن دوسرے کو ٹھگانے کے لیے قیمت بڑھا دینا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه
حدیث نمبر: 4510
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى , قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ شُعَيْبٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي , عَنْ الزُّهْرِيِّ , أَخْبَرَنِي أَبُو سَلَمَةَ , وَسَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ , أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ , قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" لَا يَبِيعُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ الْأُخْرَى لِتَكْتَفِئَ مَا فِي إِنَائِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”آدمی اپنے (کسی مسلمان) بھائی کی بیع پر بیع نہ کرے، اور نہ کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان بیچے، اور نہ بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے (کہ میں اس سامان کا تو اتنا اتنا مزید دوں گا) اور نہ کوئی عورت سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے برتن میں انڈیل لے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4510]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”کوئی آدمی اپنے (مسلمان) بھائی کے سودے پر سودا نہ کرے، کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے، بھاؤ بڑھانے کا حیلہ نہ کرو، کوئی شخص اپنے بھائی کے طے شدہ سودے سے زیادہ کا لالچ نہ دے اور کوئی عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے برتن کو انڈیل دے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4510]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 13171) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 4511
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى , قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ , عَنْ الزُّهْرِيِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" لَا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ , وَلَا تَنَاجَشُوا , وَلَا يَزِيدُ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ , وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَسْتَكْفِئَ بِهِ مَا فِي صَحْفَتِهَا".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا سامان نہ بیچے، اور نہ کوئی فرضی بھاؤ پر بھاؤ بڑھانے کا کام کرے، اور نہ آدمی اپنے بھائی کی بیع پر اضافہ کرے، اور نہ عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ کرے تاکہ جو اس کے برتن میں ہے اسے اپنے میں انڈیل لے“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4511]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شہری کسی دیہاتی کا مال نہ بیچے۔ بھاؤ نہ بڑھاؤ۔ کوئی شخص اپنے بھائی کے طے شدہ سودے پر اضافے کا لالچ نہ دے اور کوئی عورت اپنی سوکن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے برتن کو انڈیل دے۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4511]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4506 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن