سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
52. بَابُ: أَخْذِ الْوَرِقِ مِنَ الذَّهَبِ
باب: سونے کے بدلے چاندی لینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 4593
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمَّارٍ , قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُعَافَى , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقُلْتُ: رُوَيْدَكَ أَسْأَلُكَ إِنِّي أَبِيعُ الْإِبِلَ بِالْبَقِيعِ بِالدَّنَانِيرِ , وَآخُذُ الدَّرَاهِمَ؟ , قَالَ:" لَا بَأْسَ أَنْ تَأْخُذَ بِسِعْرِ يَوْمِهَا , مَا لَمْ تَفْتَرِقَا وَبَيْنَكُمَا شَيْءٌ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: ٹھہریے! میں آپ سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں؟ میں بقیع میں دینار کے بدلے اونٹ بیچتا ہوں اور درہم لیتا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اسی دن کے بھاؤ سے لو تو کوئی حرج نہیں جب تک کہ تم ایک دوسرے سے الگ نہ ہو اور تمہارے درمیان ایک دوسرے پر کچھ باقی ہو“۔ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4593]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ ذرا سنیے! میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ میں مقام بقیع میں دیناروں کے ساتھ اونٹ کی قیمت طے کرتا ہوں، پھر میں دیناروں کی بجائے دراہم لے لیتا ہوں۔ (کیا یہ جائز ہے؟) آپ نے فرمایا: ”تو اس دن کے بھاؤ کے حساب سے لے لے تو کوئی حرج نہیں بشرطیکہ جدا ہوتے وقت تمہارا آپس میں کچھ لین دین باقی نہ ہو۔“ [سنن نسائي/كتاب البيوع/حدیث: 4593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 4586 (ضعیف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي: حسن