سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ: صِفَةِ الإِيمَانِ وَالإِسْلاَمِ
باب: ایمان اور اسلام کی تعریف۔
حدیث نمبر: 4994
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي فَرْوَةَ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأبِي ذَرٍ، قَالَا: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَجْلِسُ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَصْحَابِهِ , فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلَا يَدْرِي أَيُّهُمْ هُوَ؟ حَتَّى يَسْأَلَ , فَطَلَبْنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْعَلَ لَهُ مَجْلِسًا يَعْرِفُهُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاهُ , فَبَنَيْنَا لَهُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْهِ , وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَجْلِسِهِ , إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْهًا، وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَهُ لَمْ يَمَسَّهَا دَنَسٌ، حَتَّى سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ، فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامُ، قَالَ: أَدْنُو يَا مُحَمَّدُ، قَالَ: ادْنُهْ فَمَا زَالَ، يَقُولُ: أَدْنُو مِرَارًا، وَيَقُولُ لَهُ: ادْنُ حَتَّى وَضَعَ يَدَهُ عَلَى رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ: يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الْإِسْلَامُ؟ قَالَ:" الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ، وَلَا تُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا، وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ الْبَيْتَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ"، قَالَ: إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: صَدَقْتَ فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الرَّجُلِ صَدَقْتَ أَنْكَرْنَاهُ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ , أَخْبِرْنِي مَا الْإِيمَانُ؟ قَالَ:" الْإِيمَانُ بِاللَّهِ، وَمَلَائِكَتِهِ، وَالْكِتَابِ، وَالنَّبِيِّينَ، وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ"، قَالَ: فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ؟ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نَعَمْ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ , أَخْبِرْنِي مَا الْإِحْسَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تَعْبُدَ اللَّهَ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ , أَخْبِرْنِي مَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ: فَنَكَسَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا، ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا، ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْهُ شَيْئًا، وَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ:" مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ لَهَا عَلَامَاتٌ تُعْرَفُ بِهَا إِذَا رَأَيْتَ الرِّعَاءَ الْبُهُمَ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ، وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ مُلُوكَ الْأَرْضِ، وَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّهَا خَمْسٌ، لَا يَعْلَمُهَا إِلَّا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ إِلَى قَوْلِهِ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ سورة لقمان آية 34"، ثُمَّ قَالَ:" لَا , وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ هُدًى وَبَشِيرًا مَا كُنْتُ بِأَعْلَمَ بِهِ مِنْ رَجُلٍ مِنْكُمْ , وَإِنَّهُ لَجِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام نَزَلَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ".
ابوہریرہ اور ابوذر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے درمیان اس طرح بیٹھتے تھے کہ اجنبی آتا تو آپ کو پہچان نہیں پاتا جب تک پوچھ نہ لیتا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش ظاہر کی کہ ہم آپ کے بیٹھنے کی جگہ بنا دیں تاکہ جب کوئی اجنبی شخص آئے تو آپ کو پہچان لے، چنانچہ ہم نے آپ کے لیے مٹی کا ایک چبوترہ بنایا جس پر آپ بیٹھتے تھے۔ ایک دن ہم بیٹھے ہوئے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی جگہ پر بیٹھے تھے، اتنے میں ایک شخص آیا، جس کا چہرہ سب لوگوں سے اچھا تھا، جس کے بدن کی خوشبو سب لوگوں سے بہتر تھی، گویا کپڑوں میں میل لگا ہی نہ تھا، اس نے فرش کے کنارے سے سلام کیا اور کہا: ”السلام علیک یا محمد“ اے محمد! آپ پر سلام ہو، آپ نے سلام کا جواب دیا، وہ بولا: اے محمد! کیا میں نزدیک آؤں؟ آپ نے فرمایا: آؤ، وہ کئی بار کہتا رہا: کیا میں نزدیک آؤں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فرماتے رہے: آؤ، آؤ، یہاں تک کہ اس نے اپنا ہاتھ آپ کے دونوں گھٹنوں کے اوپر رکھا۔ وہ بولا: اے محمد! مجھے بتائیے، اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تم اللہ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ، نماز ادا کرو، زکاۃ دو، بیت اللہ کا حج کرو اور رمضان کے روزے رکھو“۔ وہ بولا: جب میں ایسا کرنے لگوں تو کیا میں مسلمان ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، اس نے کہا: آپ نے سچ کہا۔ جب ہم نے اس شخص کی یہ بات سنی کہ ”آپ نے سچ کہا“ تو ہمیں عجیب لگا (خود ہی سوال بھی کرتا ہے اور جواب کی تصدیق بھی)۔ وہ بولا: محمد! مجھے بتائیے، ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ پر، اس کے فرشتوں پر، کتاب پر، نبیوں پر ایمان رکھنا اور تقدیر پر ایمان لانا“، وہ بولا: کیا اگر میں نے یہ سب کر لیا تو میں مومن ہو گیا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، وہ بولا: آپ نے سچ کہا۔ پھر بولا: محمد! مجھے بتائیے، احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ کی عبادت اس طرح کرو گویا تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے ہو تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے“۔ وہ بولا: آپ نے سچ کہا۔ پھر بولا: محمد! مجھے بتائیے کہ قیامت کب آئے گی؟ یہ سن کر آپ نے اپنا سر جھکا لیا اور اسے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس نے سوال دہرایا تو آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، اس نے پھر سوال دہرایا تو آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”جس سے سوال کیا جا رہا ہے وہ قیامت کے آنے کے متعلق سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ البتہ اس کی کچھ نشانیاں ہیں جن سے تم جان سکتے ہو: جب تم دیکھو کہ جانوروں کو چرانے والے بڑی بڑی عمارتیں بنا رہے ہیں اور دیکھو کہ ننگے پاؤں، ننگے بدن پھرنے والے زمین کے بادشاہ ہو رہے ہیں، اور دیکھو کہ غلام عورت اپنے مالک کو جنم دے رہی ہے (تو سمجھ لو کہ قیامت نزدیک ہے)، پانچ چیزیں ایسی ہیں جنہیں اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا، پھر آپ نے «إن اللہ عنده علم الساعة» ”اللہ ہی کے پاس قیامت کا علم ہے“ (سورة لقمان: 34) سے لے کر «إن اللہ عليم خبير» ”اللہ علیم (ہر چیز کا جاننے والا) اور خبیر (ہر چیز کی خبر رکھنے والا) ہے“ کی تلاوت کی، پھر فرمایا: نہیں، اس ذات کی قسم! جس نے محمد کو حق کے ساتھ ہادی و بشارت دینے والا بنا کر بھیجا، میں اس کو تم میں سے کسی شخص سے زیادہ نہیں جانتا، وہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو دحیہ کلبی کی شکل میں آئے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4994]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ میں اس طرح تشریف فرما ہوتے تھے کہ کوئی اجنبی آدمی آتا تو وہ نہیں پہچان سکتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں، حتیٰ کہ وہ (آپ کی بابت) پوچھتا، اس لیے ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ ہم آپ کے بیٹھنے کے لیے مخصوص جگہ بنا دیں تاکہ اجنبی آدمی آئے تو وہ بھی آپ کو پہچان سکے۔ اجازت ملنے پر ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے مٹی کا ایک تھڑا بنا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر تشریف فرما ہوتے تھے۔ ایک دفعہ ہم بیٹھے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنے مخصوص مقام پر تشریف فرما تھے کہ ایک انتہائی خوب صورت اور خوشبو میں بسا ہوا ایک آدمی آیا۔ اس کے کپڑوں کو ہلکا سا میل کچیل بھی نہیں لگا تھا، حتیٰ کہ اس نے نیچے بچھی ہوئی چٹائی کے کنارے کے پاس آکر سلام کہا اور کہا: اے محمد! «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”تم پر سلامتی ہو!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے جواب دیا۔ اس نے کہا: اے محمد! میں قریب آ سکتا ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قریب آ جاؤ۔“ وہ بار بار اسی طرح کہتا رہا: اور قریب آ جاؤں؟ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے رہے: ”قریب آ جاؤ۔“ حتیٰ کہ اس نے اپنا ہاتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک گھٹنوں پر رکھ دیا اور کہا: اے محمد! مجھے بتائیے: اسلام کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ سمجھے، نماز قائم کرے، اور زکاۃ ادا کرے، بیت اللہ کا حج کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے۔“ اس نے کہا: جب میں یہ کام کرلوں تو کیا میں مسلمان ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ جب ہم نے اس شخص کی یہ بات سنی تو ہم نے اس پر تعجب کیا (پوچھتا بھی ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے)۔ پھر اس نے کہا: اے محمد! فرمائیے ایمان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں، نبیوں اور تقدیر کو دل و جان سے تسلیم کر لے۔“ اس نے کہا: جب میں یہ کام کر لوں گا تو کیا میں مومن ہو گیا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ اس نے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر کہنے لگا: اے محمد! بتلائیے: احسان کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔ اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔ اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔“ وہ کہنے لگا: آپ نے سچ فرمایا۔ پھر وہ کہنے لگا: اے محمد! مجھے بتائیے: قیامت کب آئے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر جھکا لیا اور اسے کچھ جواب نہ دیا۔ اس نے دوبارہ پھر وہی سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر کوئی جواب نہ دیا۔ اس نے تیسری دفعہ پھر وہی سوال کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ”جس شخص سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا ہے، وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔ لیکن قیامت کی کچھ علامات ہیں جن کے ساتھ اس کا پتا چل جائے گا، مثلاً: جب تو دیکھے کہ بکریوں بھیڑوں کے چرواہے عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا فخریہ انداز میں مقابلہ کر رہے ہیں اور ننگے پاؤں چلنے والے اور ننگے جسم رہنے والے کو زمین کا بادشاہ بنے دیکھے اور دیکھے کہ عورتیں اپنے مالک جننے لگی ہیں (تو پھر قیامت کا انتظار کر)۔ پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ﴿إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا ۖ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ﴾ [سورة لقمان: 34] ”اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے...“ پھر فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس نے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو سچا نبی بنایا جو رہنمائی کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہے! تمھاری طرح میں بھی اس آدمی کو پہچان نہیں سکا تھا۔ (پھر معلوم ہوا کہ) وہ جبرئیل علیہ السلام تھے جو دحیہ کلبی رضی اللہ عنہ کی صورت میں آئے تھے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 4994]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/السنة 17 (4698)، (تحفة الأشراف: 12002) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده صحيح