سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ: أَحَبُّ الدِّينِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
باب: اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ دینی کام کا بیان۔
حدیث نمبر: 5038
أَخْبَرَنَا شُعَيْبُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، أَخْبَرَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهَا , وَعِنْدَهَا امْرَأَةٌ، فَقَالَ:" مَنْ هَذِهِ؟" , قَالَتْ: فُلَانَةُ لَا تَنَامُ تَذْكُرُ مِنْ صَلَاتِهَا، فَقَالَ:" مَهْ , عَلَيْكُمْ مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ فَوَاللَّهِ لَا يَمَلُّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ حَتَّى تَمَلُّوا , وَكَانَ أَحَبَّ الدِّينِ إِلَيْهِ مَا دَامَ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس آئے، ان کے پاس ایک عورت تھی، آپ نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ کہا: فلانی ہے، یہ سوتی نہیں، اور وہ اس کی نماز کا تذکرہ کرنے لگیں، آپ نے فرمایا: ”ایسا مت کرو، تم اتنا ہی کرو جتنے کی تم میں سکت اور طاقت ہو، اللہ کی قسم! اللہ (ثواب دینے سے) نہیں تھکتا، لیکن تم (عمل کرتے کرتے) تھک جاؤ گے اسے تو وہ دینی عمل سب سے زیادہ پسند ہے جسے آدمی پابندی سے کرے“۔ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5038]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس تشریف لائے تو ان (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا) کے پاس ایک عورت بیٹھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کون ہے؟“ انہوں نے کہا: فلاں عورت ہے، یہ (رات کو) بالکل نہیں سوتی اور اس کی (نفل) نماز کا ذکر کرنے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس کرو، اتنا کام کیا کرو جس کی تم طاقت رکھتے ہو۔ اللہ کی قسم! اللہ تعالیٰ (ثواب دینے سے) نہیں اکتائے گا حتیٰ کہ تم اکتا جاؤ گے۔ دین کے کاموں میں سے اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ وہ عمل ہے جس پر عمل کرنے والا ہمیشگی کر سکے۔“ [سنن نسائي/كتاب الإيمان وشرائعه/حدیث: 5038]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 1643 (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن