سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ: الرُّخْصَةِ فِي حَلْقِ الرَّأْسِ
باب: سر منڈانے کی اجازت کا بیان۔
حدیث نمبر: 5051
أَخْبَرَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى صَبِيًّا حَلَقَ بَعْضَ رَأْسِهِ وَتَرَكَ بَعْضًا فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ وَقَال:" احْلِقُوهُ كُلَّهُ , أَوِ اتْرُكُوهُ كُلَّهُ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچے کو دیکھا، اس کے سر کا کچھ حصہ منڈا ہوا تھا اور کچھ نہیں، آپ نے ایسا کرنے سے روکا اور فرمایا: ”یا تو پورا سر مونڈو، یا پھر پورے سر پر بال رکھو“۔ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5051]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بچہ دیکھا جس کا کچھ سر مونڈا ہوا تھا اور کچھ چھوڑ دیا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا اور فرمایا: ”سارا سر منڈاؤ یا سارا رہنے دو۔“ [سنن نسائي/كتاب الزينة من السنن/حدیث: 5051]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/اللباس 31 (2120)، سنن ابی داود/الترجل 14 (4195)، (تحفة الأشراف: 7525)، مسند احمد 2/88) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح مسلم