سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
62. بَابُ: التَّرَجُّلِ
باب: کنگھی کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5241
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يُقَالُ لَهُ: عُبَيْدٌ، قَالَ:" إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ كَثِيرٍ مِنَ الْإِرْفَاهِ". سُئِلَ ابْنُ بُرَيْدَةَ عَنِ الْإِرْفَاهِ؟ قَالَ: مِنْهُ التَّرَجُّلُ.
عبید نامی ایک صحابی رسول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم «ارفاہ» (بہت زیادہ عیش میں پڑ جانے) سے منع فرماتے تھے۔ عبداللہ بن بریدہ سے پوچھا گیا: «ارفاہ» کیا ہے؟ کہا: «ارفاہ» میں (ہر روز) کنگھی کرنا بھی شامل ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5241]
حضرت عبداللہ بن بریدہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اصحابِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم میں سے ایک صحابی، جن کو عبید رضی اللہ عنہ کہا جاتا تھا، (انہوں نے بتایا) کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ”زیادہ ناز نخرے سے منع فرمایا ہے“۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ناز نخرے سے کیا مراد ہے؟ انہوں نے فرمایا: اسی میں سے (ہر روز) کنگھی کرنا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5241]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر حدیث رقم: 5011 (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: لفظ «ترجل» کا معنی ”ہر روز کنگھی کرنا“ اس لیے کیا گیا ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی کنگھی کرتے تھے، اور اس کی ترغیب بھی دیتے تھے، (جیسا کہ حدیث نمبر: ۵۲۳۸ میں ہے) آپ نے صرف کثرت سے کنگھی کرنے سے منع فرمایا، اور ناغہ کر کے کرنے کی اجازت دی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: حسن