🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن نسائی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5761)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

88. بَابُ: لُبْسِ الدِّيبَاجِ الْمَنْسُوجِ بِالذَّهَبِ
باب: سونے کے کام والے دیبا نامی ریشمی کپڑا پہننے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5304
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ قَزَعَةَ، عَنْ خَالِدٍ وَهُوَ ابْنُ الْحَارِثِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ وَاقِدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ حِينَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ , فَقَالَ: مِمَّنْ أَنْتَ؟ قُلْتُ: أَنَا وَاقِدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ، قَالَ: إِنَّ سَعْدًا كَانَ أَعْظَمَ النَّاسِ وَأَطْوَلَهُ، ثُمَّ بَكَى فَأَكْثَرَ الْبُكَاءَ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى أُكَيْدِرٍ صَاحِبِ دُومَةَ بَعْثًا , فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِجُبَّةِ دِيبَاجٍ مَنْسُوجَةٍ فِيهَا الذَّهَبُ، فَلَبِسَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَامَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَقَعَدَ، فَلَمْ يَتَكَلَّمْ وَنَزَلَ فَجَعَلَ النَّاسُ يَلْمِسُونَهَا بِأَيْدِيهِمْ، فَقَالَ:" أَتَعْجَبُونَ مِنْ هَذِهِ , لَمَنَادِيلُ سَعْدٍ فِي الْجَنَّةِ أَحْسَنُ مِمَّا تَرَوْنَ".
واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ کہتے ہیں کہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ جب مدینے آئے، تو میں ان کے پاس گیا، میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے کہا: تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں، وہ بولے: سعد تو بہت عظیم شخص تھے اور لوگوں میں سب سے لمبے تھے، پھر وہ رو پڑے اور بہت روئے، پھر بولے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ کے بادشاہ اکیدر کے پاس ایک وفد بھیجا، تو اس نے آپ کے پاس دیبا کا ایک جبہ بھیجا، جس میں سونے کی کاریگری تھی، چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنا، پھر آپ منبر پر کھڑے ہوئے اور بیٹھ گئے، پھر کچھ کہے بغیر اتر گئے، لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھونے لگے، تو آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں اس پر تعجب ہے؟ سعد کے رومال جنت میں اس سے کہیں زیادہ بہتر ہیں جسے تم دیکھ رہے ہو“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5304]
حضرت واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو میں ان کے پاس حاضر ہوا اور سلام عرض کیا، انہوں نے کہا: تو کن میں سے ہے؟ میں نے کہا: میں واقد بن عمرو ہوں، حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا پوتا۔ انہوں نے کہا: حضرت سعد رضی اللہ عنہ بڑے سردار اور لمبے قد کے آدمی تھے، پھر (ان کو یاد کر کے) روئے اور بہت روئے، پھر فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دومۃ الجندل کے حکمران اکیدر کی طرف ایک لشکر بھیجا تو اس نے (اطاعت قبول کی اور) آپ کی خدمت میں ریشم کا ایک حلہ بھیجا جو سونے کے تاروں سے بنا گیا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے زیب تن کیا پھر منبر پر تشریف فرما ہوئے، صرف بیٹھے رہے، کوئی تقریر نہیں فرمائی، کچھ دیر بعد اتر آئے، لوگ ہاتھ لگا لگا کر حلے کو دیکھتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم اس (کی عمدگی اور نرمی) پر تعجب کرتے ہو؟ اللہ کی قسم! سعد بن معاذ کے (ہاتھ منہ کی صفائی والے) رومال جنت میں اس سے کہیں بڑھ کر خوب صورت ہیں۔“ [سنن نسائي/كتاب الزاينة (من المجتبى)/حدیث: 5304]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/اللباس 3 (1723)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الہبة 28 (2615)، وبدء الخلق 8 (3248)، صحیح مسلم/فضائل الصحابة 24 (2469)، مسند احمد (2/121) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: دیبا نامی ایسا ریشمی کپڑا پہننا منسوخ ہے، جیسا کہ اگلی روایت میں آ رہا ہے۔
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں