سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابُ: حُكْمِ الْحَاكِمِ فِي دَارِهِ
باب: حاکم اپنے گھر میں رہ کر بھی فیصلہ کر سکتا ہے۔
حدیث نمبر: 5410
أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أَنْبَأَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ تَقَاضَى ابْنَ أَبِي حَدْرَدٍ دَيْنًا كَانَ عَلَيْهِ , فَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمَا حَتَّى سَمِعَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِهِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِمَا , فَكَشَفَ سِتْرَ حُجْرَتِهِ , فَنَادَى:" يَا كَعْبُ"، قَالَ: لَبَّيْكَ , يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" ضَعْ مِنْ دَيْنِكَ هَذَا" , وَأَوْمَأَ إِلَى الشَّطْرِ، قَالَ: قَدْ فَعَلْتُ، قَالَ:" قُمْ فَاقْضِهِ".
کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ابن ابی حدرد رضی اللہ عنہ سے اپنے قرض کا جو ان کے ذمہ تھا تقاضا کیا، ان دونوں کی آوازیں بلند ہو گئیں، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنائی دیں، آپ اپنے گھر میں تھے، چنانچہ آپ ان کی طرف نکلے، پھر اپنے کمرے کا پردہ اٹھایا اور پکارا: ”کعب!“ وہ بولے: حاضر ہوں اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”اتنا قرض معاف کر دو“ اور آپ نے آدھے اشارہ کیا۔ کہا: میں نے معاف کیا، پھر آپ نے (ابن ابی حدرد سے) کہا: ”اٹھو اور قرض ادا کرو“۔ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5410]
حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے ابن حدرد سے اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کیا جو اس کے ذمے تھا۔ ہماری آوازیں اونچی ہو گئیں حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی سن لیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں تشریف فرما تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے، اپنے حجرۂ مبارک کا پردہ ہٹایا اور بلند آواز سے فرمایا: ”اے کعب!“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اتنا معاف کر دے۔“ اور ہاتھ سے نصف کا اشارہ فرمایا۔ میں نے عرض کیا: میں نے مان لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ابن ابی حدرد سے) فرمایا: ”اٹھ اور باقی ادا کر۔“ [سنن نسائي/كتاب آداب القضاة/حدیث: 5410]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الصلاة 71 (457)، 73 (471)، الخصومات 4 (2418)، 9 (2424)، الصلح 10 (2706)، 14 (2710)، صحیح مسلم/البیوع 25 (المساقاة4) (1558)، سنن ابی داود/الأقضیة (3595)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 18 (2429)، (تحفة الأشراف: 11130)، مسند احمد (6/390)، سنن الدارمی/البیوع 49 (2629) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: متفق عليه