سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ
باب: قرض اور معصیت (گناہ) سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5456
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي صَفْوَانَ، قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَطِيَّةَ وَكَانَ خَيْرَ أَهْلِ زَمَانِهِ , قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مَا يَتَعَوَّذُ مِنَ الْمَغْرَمِ وَالْمَأْثَمِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا , أَكْثَرَ مَا تَتَعَوَّذُ مِنَ الْمَغْرَمِ، قَالَ:" إِنَّهُ مَنْ غَرِمَ حَدَّثَ فَكَذَبَ، وَوَعَدَ فَأَخْلَفَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرض اور معصیت (گناہ) سے پناہ مانگتے تھے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ قرض سے بہت پناہ مانگتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”جو قرض دار ہو گا وہ بولے گا تو جھوٹ بولے گا اور وعدہ کرے گا تو وعدہ خلافی کرے گا“ ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5456]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (جان لیوا) قرض اور گناہ سے بہت زیادہ پناہ طلب فرمایا کرتے تھے۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ قرض سے اس قدر پناہ کیوں مانگتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اس لیے کہ جو شخص مقروض ہو جائے (قرض تلے دب جائے) وہ بات کرتا ہے تو جھوٹ بولتا ہے اور وعدہ کرتا ہے تو خلاف ورزی کرتا ہے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5456]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ النسائي (تحفة الأشراف: 16675) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس لیے آدمی قرض لینے سے طاقت بھر بچے، ایسی نوبت ہی نہ آنے دے کہ قرض لینے کے لیے مجبور ہو، طاقت و قناعت سے کام لے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: صحيح