سنن نسائي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
30. بَابُ: الاِسْتِعَاذَةِ مِنَ الضَّلاَلِ
باب: ضلالت و گمراہی سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5488
أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا خَرَجَ مِنْ بَيْتِهِ، قَالَ:" بِسْمِ اللَّهِ رَبِّ , أَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ".
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اپنے گھر سے نکلتے تو کہتے: «بسم اللہ رب أعوذ بك من أن أزل أو أضل أو أظلم أو أظلم أو أجهل أو يجهل على» ”اللہ کے نام سے شروع کرتا ہوں، میرے رب! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں پھسل جاؤں، یا گمراہ ہو جاؤں، یا ظلم کروں، یا مجھ پر ظلم کیا جائے، یا جہالت کروں، یا مجھ سے جہالت کی جائے“۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5488]
حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب گھر سے باہر نکلتے تو یوں دعا فرماتے: «بِسْمِ اللَّهِ، رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَزِلَّ أَوْ أَضِلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» ”اللہ تعالیٰ کے نام کی برکت سے۔ اے میرے رب! میں اس بات سے تیری پناہ میں آتا ہوں کہ میں لغزش کر جاؤں یا گمراہ ہو جاؤں یا کسی پر ظلم کروں یا مظلوم بن جاؤں یا کسی سے نا مناسب سلوک کروں یا مجھ سے نا مناسب سلوک کیا جائے۔“ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5488]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/الٔردب 112 (5094)، سنن الترمذی/الدعوات 35 (3427)، سنن ابن ماجہ/الدعاء 18 (3884)، (تحفة الأشراف: 18168)، ویأتي عند المؤلف: برقم: 5541 (صحیح) (تراجع الالبانی 136)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي: ضعيف، إسناده ضعيف، ابو داود (5094) ترمذي (3427) ابن ماجه (3884) والحديث الآتي (5541) انوار الصحيفه، صفحه نمبر 364