🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

99. باب مَا يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ
باب: دونوں سجدوں کے درمیان کی دعا۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 284
حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ حُبَابٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ، عن سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ بَيْنَ السَّجْدَتَيْنِ: " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَاجْبُرْنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي ".
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں سجدوں کے درمیان «اللهم اغفر لي وارحمني واجبرني واهدني وارزقني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، میرے نقصان کی تلافی فرما، مجھے ہدایت دے اور مجھے رزق عطا فرما کہتے تھے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 284]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابی داود/ الصلاة 145 (850)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 24 (898)، (تحفة الأشراف: 5475)، مسند احمد (1/315، 371) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ دونوں سجدوں کے درمیان یہ دعا پڑھنا مسنون ہے، بعض روایات میں «وأرفعني» کا اضافہ ہے اور بعض میں مختصراً «رب اغفرلي» کے الفاظ آئے ہیں، دوسری روایات میں الفاظ کچھ کمی بیشی ہے، اس لیے حسب حال جو بھی دعا پڑھ لی جائے درست ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح، ابن ماجة (898)
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / د 850 ، جه 898

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 285
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ حُبَابٍ، عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ نَحْوَهُ، قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ، وَهَكَذَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ، وَبِهِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ , وَإِسْحَاق يرون هذا جائزا في المكتوبة والتطوع، وروى بعضهم هذا الحديث عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ مُرْسَلًا.
اس سند سے بھی کامل ابو العلاء سے اسی طرح مروی ہے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث غریب ہے،
۲- اسی طرح علی رضی الله عنہ سے بھی مروی ہے۔ اور بعض لوگوں نے کامل ابو العلاء سے یہ حدیث مرسلاً روایت کی ہے،
۳- شافعی، احمد، اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں، ان کی رائے ہے کہ یہ فرض اور نفل دونوں میں جائز ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 285]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «انظر ما قبلہ (صحیح)»
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده ضعيف / د 850 ، جه 898

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں