صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. بَابُ إِطْعَامُ الطَّعَامِ مِنَ الإِسْلاَمِ:
باب: کھانا کھلانا (بھوکے ناداروں کو) بھی اسلام میں داخل ہے۔
حدیث نمبر: 12
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ، يَزِيدَ، عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَيُّ الْإِسْلَامِ خَيْرٌ؟ قَالَ:" تُطْعِمُ الطَّعَامَ، وَتَقْرَأُ السَّلَامَ عَلَى مَنْ عَرَفْتَ وَمَنْ لَمْ تَعْرِفْ".
ہم سے حدیث بیان کی عمرو بن خالد نے، ان کو لیث نے، وہ روایت کرتے ہیں یزید سے، وہ ابوالخیر سے، وہ عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے کہ ایک دن ایک آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا اسلام بہتر ہے؟ فرمایا کہ تم کھانا کھلاؤ، اور جس کو پہچانو اس کو بھی اور جس کو نہ پہچانو اس کو بھی، الغرض سب کو سلام کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 12]
حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا: کون سا اسلام بہتر ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کھانا کھلاؤ اور سب کو سلام کرو، (عام اس سے کہ) تم اسے پہچانتے ہو یا نہیں پہچانتے ہو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِيمَانِ/حدیث: 12]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة