صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
29. بَابُ إِذَا جَامَعَ فِي رَمَضَانَ:
باب: جان بوجھ کر اگر رمضان میں کسی نے جماع کیا؟
حدیث نمبر: Q1935
وَيُذْكَرُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَفَعَهُ مَنْ أَفْطَرَ يَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ وَلَا مَرَضٍ، لَمْ يَقْضِهِ صِيَامُ الدَّهْرِ وَإِنْ صَامَهُ، وَبِهِ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: وَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ، وَالشَّعْبِيُّ، وَابْنُ جُبَيْرٍ، وَإِبْرَاهِيمُ، وَقَتَادَةُ، وَحَمَّادٌ: يَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ.
اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً یوں مروی ہے کہ اگر کسی نے رمضان میں کسی عذر اور مرض کے بغیر ایک دن کا بھی روزہ نہیں رکھا تو ساری عمر کے روزے بھی اس کا بدلہ نہ ہوں گے اور ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا بھی یہی قول ہے اور سعید بن مسیب، شعبی اور ابن جبیر اور ابراہیم اور قتادہ اور حماد رحمہم اللہ نے بھی فرمایا کہ اس کے بدلہ میں ایک دن روزہ رکھنا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: Q1935]
حدیث نمبر: 1935
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُنِيرٍ، سَمِعَ يَزِيدَ بْنَ هَارُونَ، حَدَّثَنَا يَحْيَى هُوَ ابْنُ سَعِيدٍ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ أَخْبَرَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، تَقُولُ:" إِنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّهُ احْتَرَقَ، قَالَ: مَا لَكَ؟ قَالَ: أَصَبْتُ أَهْلِي فِي رَمَضَانَ، فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِكْتَلٍ يُدْعَى الْعَرَقَ، فَقَالَ: أَيْنَ الْمُحْتَرِقُ؟ قَالَ: أَنَا، قَالَ: تَصَدَّقْ بِهَذَا".
ہم سے عبداللہ بن منیر نے بیان کیا، کہا کہ ہم نے یزید بن ہارون سے سنا، ان سے یحییٰ نے (جو سعید کے صاحبزادے ہیں) کہا، انہیں عبدالرحمٰن بن قاسم نے خبر دی، انہیں محمد بن جعفر بن زبیر بن عوام بن خویلد نے اور انہیں عباد بن عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا، آپ نے کہا کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں دوزخ میں جل چکا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا کہ کیا بات ہوئی؟ اس نے کہا کہ رمضان میں میں نے (روزے کی حالت میں) اپنی بیوی سے ہمبستری کر لی، تھوڑی دیر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں (کھجور کا) ایک تھیلہ جس کا نام عرق تھا، پیش کیا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ دوزخ میں جلنے والا شخص کہاں ہے؟ اس نے کہا کہ حاضر ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لے تو اسے خیرات کر دے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1935]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا کہ وہ جل گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تجھے کیا ہوا ہے؟“ اس نے عرض کیا کہ میں نے رمضان میں (دن کے وقت) بیوی سے صحبت کر لی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک تھیلا آیا جسے «الْعَرَقُ» کہا جاتا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جلنے والا کہاں ہے؟“ اس نے کہا کہ میں ادھر ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے صدقہ کرو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1935]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة