🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

43. بَابُ مَتَى يَحِلُّ فِطْرُ الصَّائِمِ:
باب: روزہ کس وقت افطار کرے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q1954
وَأَفْطَرَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ حِينَ غَابَ قُرْصُ الشَّمْسِ.
‏‏‏‏ اور جب سورج کی ٹکیہ ڈوب گئی تو ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے روزہ افطار کر لیا (اس اثر کو سعید بن منصور اور ابن شیبہ نے وصل کیا ہے) [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: Q1954]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1954
حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا أَقْبَلَ اللَّيْلُ مِنْ هَاهُنَا، وَأَدْبَرَ النَّهَارُ مِنْ هَاهُنَا، وَغَرَبَتِ الشَّمْسُ، فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ".
ہم سے حمیدی نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے بیان کیا، ان سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ میں نے اپنے باپ سے سنا، انہوں نے فرمایا کہ میں نے عاصم بن عمر رضی اللہ عنہ بن خطاب سے سنا، ان سے ان کے باپ عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، جب رات اس طرف (مشرق) سے آئے اور دن ادھر مغرب میں چلا جائے کہ سورج ڈوب جائے تو روزہ کے افطار کا وقت آ گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1954]
حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب ادھر سے رات آ جائے اور ادھر سے دن چلا جائے، نیز سورج غروب ہو جائے تو روزہ دار اپنا روزہ افطار کر دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1954]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1955
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ الْوَاسِطِيُّ حَدَّثَنَا خَالِدٌ عَنْ الشَّيْبَانِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ وَهُوَ صَائِمٌ فَلَمَّا غَرَبَتْ الشَّمْسُ قَالَ لِبَعْضِ الْقَوْمِ يَا فُلَانُ قُمْ فَاجْدَحْ لَنَا فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَلَوْ أَمْسَيْتَ قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا قَالَ إِنَّ عَلَيْكَ نَهَارًا قَالَ انْزِلْ فَاجْدَحْ لَنَا فَنَزَلَ فَجَدَحَ لَهُمْ فَشَرِبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ إِذَا رَأَيْتُمْ اللَّيْلَ قَدْ أَقْبَلَ مِنْ هَا هُنَا فَقَدْ أَفْطَرَ الصَّائِمُ.
ہم سے اسحاق واسطی نے بیان کیا، کہا ہم سے خالد نے بیان کیا، ان سے سلیمان بن شیبانی نے، ان سے عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (غزوہ فتح جو رمضان میں ہوا) سفر میں تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ سے تھے۔ جب سورج غروب ہو گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی (بلال رضی اللہ عنہ) سے فرمایا کہ اے فلاں! میرے لیے اٹھ کے ستو گھول، انہوں نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیر اور ٹھہرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اتر کر ہمارے لیے ستو گھول، اس پر انہوں نے کہا یا رسول اللہ! آپ تھوڑی دیر اور ٹھہرتے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہی حکم دیا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول لیکن ان کا اب بھی خیال تھا کہ ابھی دن باقی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مرتبہ پھر فرمایا کہ اتر کر ہمارے لیے ستو گھول چنانچہ اترے اور ستو انہوں نے گھول دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیا۔ پھر فرمایا کہ جب تم یہ دیکھ لو کہ رات اس مشرق کی طرف سے آ گئی تو روزہ دار کو افطار کر لینا چاہئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1955]
حضرت عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے، آپ نے روزہ رکھا ہوا تھا، جب سورج غروب ہوا تو آپ نے ایک شخص سے فرمایا: ”اے فلاں! اٹھ اور ہمارے لیے ستو تیار کر۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! شام ہونے دیتے، آپ نے فرمایا: ”اتر کر ہمارے لیے ستو گھول۔“ اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! شام ہونے دیجیے، آپ نے فرمایا: ”اتر اور ہمارے لیے ستو بنا۔“ اس نے پھر عرض کیا: ابھی تو دن باقی ہے، آپ نے فرمایا: ”اتر کر ہمارے لیے ستو تیار کر۔“ چنانچہ وہ شخص اترا اور اس نے ستو تیار کیے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نوش جاں فرمایا، پھر ارشاد ہوا: ”جب تم دیکھو کہ رات اس طرف سے آگئی ہے تو روزہ دار کو چاہیے کہ وہ روزہ افطار کر دے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الصَّوْمِ/حدیث: 1955]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں