🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. باب مَا جَاءَ فِيمَنْ يَقُولُ لآخَرَ يَا مُخَنَّثُ
باب: دوسرے کو مخنث (ہجڑا) کہنے والے کے حکم کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1462
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ , عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ , عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ , عَنْ عِكْرِمَةَ , عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " إِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ: يَا يَهُودِيُّ , فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ , وَإِذَا قَالَ: يَا مُخَنَّثُ , فَاضْرِبُوهُ عِشْرِينَ , وَمَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ , فَاقْتُلُوهُ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ لَا نَعْرِفُهُ إِلَّا مِنْ هَذَا الْوَجْهِ , وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيل يُضَعَّفُ فِي الْحَدِيثِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ غَيْرِ وَجْهٍ رَوَاهُ الْبَرَاءُ بْنُ عَازِبٍ , وَقُرَّةُ بْنُ إِيَاسٍ الْمُزَنِيُّ , أَنَّ رَجُلًا تَزَوَّجَ امْرَأَةَ أَبِيهِ , فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَتْلِهِ , وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَصْحَابِنَا , قَالُوا: مَنْ أَتَى ذَاتَ مَحْرَمٍ وَهُوَ يَعْلَمُ فَعَلَيْهِ الْقَتْلُ , وقَالَ أَحْمَدُ: مَنْ تَزَوَّجَ أُمَّهُ قُتِلَ , وقَالَ إِسْحَاق: مَنْ وَقَعَ عَلَى ذَاتِ مَحْرَمٍ قُتِلَ.
عبداللہ بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی دوسرے کو یہودی کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جب مخنث (ہجڑا) کہہ کر پکارے تو اسے بیس کوڑے لگاؤ، اور جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کر دو۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- ہم اس حدیث کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں،
۲- ابراہیم بن اسماعیل بن علیہ حدیث کی روایت میں ضعیف ہیں،
۳- نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ کئی سندوں سے مروی ہے،
۴- براء بن عازب اور قرہ بن ایاس مزنی سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے اپنے باپ کی بیوی سے نکاح کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا،
۵- ہمارے اصحاب (محدثین) کا اسی پر عمل ہے، یہ لوگ کہتے ہیں: جو جانتے ہوئے کسی محرم کے ساتھ زنا کرے تو اس پر قتل واجب ہے،
۶- (امام) احمد کہتے ہیں: جو اپنی ماں سے نکاح کرے گا اسے قتل کیا جائے گا،
۷- اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: جو کسی محرم کے ساتھ زنا کرے اسے قتل کیا جائے گا۔ [سنن ترمذي/كتاب الحدود عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الحدود 15 (2568)، (تحفة الأشراف: 6075) (ضعیف) (سند میں ”ابراہیم بن اسماعیل“ ضعیف راوی ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف، المشكاة (3632 / التحقيق الثاني) // ضعيف الجامع الصغير (610) //
قال الشيخ زبير على زئي:(1462) إسناده ضعيف /جه 2564 ،2568
إبراھيم بن إسماعيل بن أبى حبيبة :ضعيف (تق: 146) وقال الھيثمي: وضعفه الجمھور (مجمع الزوائد 316/5) و داود بن حصين عن عكرمة : ضعيف (تقدم:145) وقال أبو بردة بن نيار: عم البراء رضى الله عنه : بعثني رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى رجل نكح امرأة أبيه فأمرني أن أضرب عنقه و آخذ ماله . رواه أبو داود (4457) وسنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں