🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. باب مَا جَاءَ فِي كَفَّارَةِ النَّذْرِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ
باب: غیر متعین نذر کے کفارہ کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1528
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدٌ مَوْلَى الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ , حَدَّثَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ , عَنْ أَبِي الْخَيْرِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ , قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " كَفَّارَةُ النَّذْرِ إِذَا لَمْ يُسَمَّ كَفَّارَةُ يَمِينٍ " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: غیر متعین نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے۔ [سنن ترمذي/كتاب النذور والأيمان عن رسول الله صلى الله عليه وسلم/حدیث: 1528]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/النذور 5 (1645)، سنن ابی داود/ الأیمان 31 (3323)، سنن النسائی/الأیمان 41 (3863)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 17 (2125)، (تحفة الأشراف: 9960)، و مسند احمد (4/144، 146، 147) (صحیح) (لیکن ”لم یسم“ کا لفظ صحیح نہیں ہے، اور یہ مؤلف کے سوا کسی کے یہاں ہے بھی نہیں (جبکہ ابوداود نے اسی کا لحاظ رکھ کر ”من نذر نذراً لم یسم“ کا باب باندھا ہے) یہ مؤلف کے راوی ”محمد مولیٰ المغیرہ“ کا اضافہ ہے جو خود مجہول راوی ہیں، یہ دیگر کی سندوں میں نہیں ہیں)»
وضاحت: ۱؎: یعنی جس نے کوئی نذر مانی اور اس کا نام نہیں لیا یعنی صرف اتنا کہا کہ اگر میری مراد پوری ہو جائے تو مجھ پر نذر ہے تو اس کا کفارہ قسم کا کفارہ ہے۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف، وهو صحيح دون قوله: " إذا لم يسم "، الإرواء (2586)
قال الشيخ زبير على زئي:(1528) إسناده ضعيف
محمد بن يزيد ، مولي المغيره بن شعبة : مجھول الحال (تق: 6398) وحدث مسلم ( 1645) يغني عنه

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں