صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
25. بَابُ الاِسْتِنْثَارِ فِي الْوُضُوءِ:
باب: وضو میں ناک صاف کرنا ضروری ہے۔
حدیث نمبر: Q161
ذَكَرَهُ عُثْمَانُ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
” اس مسئلہ کو عثمان اور عبداللہ بن زید اور ابن عباس رضی اللہ عنہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کیا ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: Q161]
حدیث نمبر: 161
حَدَّثَنَا عَبْدَانُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو إِدْرِيسَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَسْتَنْثِرْ، وَمَنِ اسْتَجْمَرَ فَلْيُوتِرْ".
ہم سے عبدان نے بیان کیا، کہا انہیں یونس نے زہری کے واسطے سے خبر دی، کہا انہیں ابوادریس نے بتایا، انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص وضو کرے اسے چاہیے کہ ناک صاف کرے اور جو پتھر سے استنجاء کرے اسے چاہیے کہ طاق عدد (یعنی ایک یا تین یا پانچ ہی) سے کرے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 161]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص وضو کرے، وہ ناک صاف کرے اور جو ڈھیلے سے استنجا کرے، وہ طاق ڈھیلے لے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 161]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة