الحمدللہ ! قرآن پاک روٹ ورڈ سرچ اور مترادف الفاظ کی سہولت پیش کر دی گئی ہے۔

 

سنن ترمذي کل احادیث 3956 :حدیث نمبر
سنن ترمذي
كتاب صفة الجنة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم
کتاب: جنت کا وصف اور اس کی نعمتوں کا تذکرہ
Chapters on the description of Paradise
12. باب مَا جَاءَ فِي سِنِّ أَهْلِ الْجَنَّةِ
باب: جنتیوں کی عمر کا بیان۔
حدیث نمبر: 2545
پی ڈی ایف بنائیں اعراب
(مرفوع) حدثنا ابو هريرة محمد بن فراس البصري، حدثنا ابو داود، حدثنا عمران ابو العوام، عن قتادة، عن شهر بن حوشب، عن عبد الرحمن بن غنم، عن معاذ بن جبل، ان النبي صلى الله عليه وسلم قال: " يدخل اهل الجنة الجنة جردا مردا مكحلين ابناء ثلاثين او ثلاث وثلاثين سنة " , قال ابو عيسى: هذا حديث حسن غريب وبعض اصحاب قتادة رووا هذا عن قتادة مرسلا ولم يسندوه.(مرفوع) حَدَّثَنَا أَبُو هُرَيْرَةَ مُحَمَّدُ بْنُ فِرَاسٍ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا عِمْرَانُ أَبُو الْعَوَّامِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " يَدْخُلُ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ جُرْدًا مُرْدًا مُكَحَّلِينَ أَبْنَاءَ ثَلَاثِينَ أَوْ ثَلَاثٍ وَثَلَاثِينَ سَنَةً " , قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ وَبَعْضُ أَصْحَابِ قَتَادَةَ رَوَوْا هَذَا عَنْ قَتَادَةَ مُرْسَلًا وَلَمْ يُسْنِدُوهُ.
معاذ بن جبل رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنتی جنت میں اس حال میں داخل ہوں گے کہ ان کے جسم پر بال نہیں ہوں گے، وہ امرد ہوں گے، سرمگیں آنکھوں والے ہوں گے اور تیس یا تینتیس سال کے ہوں گے۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- قتادہ کے بعض شاگردوں نے اسے قتادہ سے مرسلا روایت کیا ہے۔ اور اسے مسند نہیں کیا ہے۔

تخریج الحدیث: «تفرد بہ المؤلف (تحفة الأشراف: 11336)، و مسند احمد (5/232، 240، 243)، وانظر أیضا حدیث رقم 2539 (حسن) (سند میں کئی علتیں ہیں، لیکن شواہد کی بنا پر یہ حدیث حسن ہے)»

قال الشيخ الألباني: حسن انظر الحديث (2675)

http://islamicurdubooks.com/ 2005-2023 islamicurdubooks@gmail.com No Copyright Notice.
Please feel free to download and use them as you would like.
Acknowledgement / a link to www.islamicurdubooks.com will be appreciated.