🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

54. بَابُ مَا يُذْكَرُ فِي بَيْعِ الطَّعَامِ وَالْحُكْرَةِ:
باب: اناج کا بیچنا اور احتکار کرنا کیسا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2131
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ:"رَأَيْتُ الَّذِينَ يَشْتَرُونَ الطَّعَامَ مُجَازَفَةً، يُضْرَبُونَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ، حَتَّى يُؤْوُوهُ إِلَى رِحَالِهِمْ".
ہم سے اسحاق بن ابراہیم نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ولید بن مسلم نے خبر دی، انہیں اوزاعی نے، انہیں زہری نے، انہیں سالم نے، اور ان سے ان کے باپ نے بیان کیا، کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ان لوگوں کو دیکھا جو اناج کے ڈھیر (بغیر تولے ہوئے محض اندازہ کر کے) خرید لیتے ان کو مار پڑتی تھی۔ اس لیے کہ جب تک اپنے گھر نہ لے جائیں نہ بچیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2131]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اندازے سے غلہ خریدنے والوں کو اس بات پر پٹتے دیکھا ہے کہ وہ اس پر قبضہ کر کے اپنے گھروں میں لانے سے پہلے اسے (آگے) فروخت کریں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2131]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2132
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، عَنْ ابْنِ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى أَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ طَعَامًا حَتَّى يَسْتَوْفِيَهُ"، قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: كَيْفَ ذَاكَ؟ قَالَ: ذَاكَ دَرَاهِمُ بِدَرَاهِمَ، وَالطَّعَامُ مُرْجَأٌ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: مُرْجَئُونَ مُؤَخَّرُونَ.
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا، ان سے ابن طاؤس نے، ان سے ان کے باپ نے، ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلہ پر پوری طرح قبضہ سے پہلے اسے بیچنے سے منع فرمایا۔ طاؤس نے کہا کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے؟ تو انہوں نے فرمایا کہ یہ تو روپے کا روپوں کے بدلے بیچنا ہوا جب کہ ابھی غلہ تو میعاد ہی پر دیا جائے گا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ «مرجئون» سے مراد «مؤخرون» یعنی مؤخر کرنا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2132]
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع فرمایا کہ کوئی آدمی قبضہ کرنے سے پہلے غلہ فروخت کرے۔ (راویِ حدیث حضرت طاؤس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ) میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا کہ ایسا کرنا کیوں منع ہے؟ فرمایا کہ یہ تو دراہم کے عوض دراہم فروخت کرنا ہے جبکہ غلہ بعد میں دیا جاتا ہے۔ ابو عبد اللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ قرآنی لفظ ﴿مُرْجَوْنَ﴾ [سورة التوبة: 106] کے معنی ہیں: ان کا معاملہ (اللہ کے حکم تک کے لیے) مؤخر کر دیا گیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2132]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2133
حَدَّثَنِي أَبُو الْوَلِيدِ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا، فَلَا يَبِعْهُ حَتَّى يَقْبِضَهُ".
مجھ سے ابوالولید نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے عبداللہ بن دینار نے بیان کیا کہ میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ کہتے سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو شخص بھی کوئی غلہ خریدے تو اس پر قبضہ کرنے سے پہلے اسے نہ بیچے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2133]
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص غلہ خریدے تو اسے فروخت نہ کرے تاآنکہ اس پر قبضہ کر لے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2133]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2134
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، كَانَ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ يُحَدِّثُهُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، أَنَّهُ قَالَ: مَنْ عِنْدَهُ صَرْفٌ؟ فَقَالَ طَلْحَةُ: أَنَا، حَتَّى يَجِيءَ خَازِنُنَا مِنَ الْغَابَةِ، قَالَ سُفْيَانُ: هُوَ الَّذِي حَفِظْنَاهُ الزُّهْرِيِّ لَيْسَ فِيهِ زِيَادَةٌ، فَقَال: أَخْبَرَنِي مَالِكُ بْنُ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، سَمِعَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُخْبِرُ، عَنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالْبُرُّ بِالْبُرِّ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالتَّمْرُ بِالتَّمْرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ رِبًا إِلَّا هَاءَ وَهَاءَ".
ہم سے علی بن مدینی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان نے بیان کیا کہ عمرو بن دینار ان سے بیان کرتے تھے، اور ان سے زہری نے، ان سے مالک بن اوس نے، کہ انہوں نے پوچھا کہ آپ لوگوں میں سے کوئی بیع صرف (یعنی دینار، درہم، اشرفی وغیرہ بدلنے کا کام) کرتا ہے۔ طلحہ نے کہا کہ میں کرتا ہوں، لیکن اس وقت کر سکوں گا جب کہ ہمارا خزانچی غابہ سے آ جائے گا۔ سفیان نے بیان کیا کہ زہری سے ہم نے اسی طرح حدیث یاد کی تھی۔ اس میں کوئی زیادتی نہیں تھی۔ پھر انہوں نے کہا کہ مجھے مالک بن اوس نے خبر دی کہ انہوں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نقل کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، سونا سونے کے بدلے میں (خریدنا) سود میں داخل ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو۔ گیہوں، گیہوں کے بدلے میں (خریدنا بیچنا) سود میں داخل ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو، کھجور، کھجور کے بدلے میں سود ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو اور جَو، جَو کے بدلے میں سود ہے مگر یہ کہ نقدا نقد ہو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2134]
حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نقدی کس کے پاس ہے؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میرے پاس ہے تاآنکہ میرا خزانچی غابہ جنگل سے واپس آ جائے۔ (راویِ حدیث) امام سفیان رحمہ اللہ نے کہا کہ ہم نے اس حدیث کو اسی طرح اپنے شیخ امام زہری رحمہ اللہ سے محفوظ کیا ہے، اس میں کسی لفظ کا اضافہ نہیں۔ حضرت مالک بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سونے کو چاندی کے عوض فروخت کرنا سود ہے مگر یہ کہ دست بدست ہو۔ گندم کو گندم کے عوض بیچنا بھی سود ہے مگر جب نقد بنقد ہو، اسی طرح کھجور کو کھجور کے بدلے اور جو کو جو کے بدلے فروخت کرنا سود ہے مگر جب ہاتھوں ہاتھ ہو (تو جائز ہے۔) [صحيح البخاري/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 2134]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں