سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
9. (باب)
(ضعفاء سے روایت اور ان پر جرح)
حدیث نمبر: Q3959
وَقَدْ تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي قَوْمٍ مِنْ أَجِلَّةِ أَهْلِ الْعِلْمِ، وَضَعَّفُوهُمْ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمْ، وَوَثَّقَهُمْ آخَرُونَ مِنْ الأَئِمَّةِ لجَلالَتِهِمْ وَصِدْقِهِمْ وَإِنْ كَانُوا قَدْ وَهِمُوا فِي بَعْضِ مَا رَوَوْا.
بعض اہل حدیث نے جلیل القدر اہل علم کی ایک جماعت پر جرح کی، حافظہ کی خرابی کی وجہ سے ان کو ضعیف قرار دیا، جب کہ دوسرے ائمہ نے ان کے صدق اور جلالت شان کی وجہ سے ان کی توثیق کی گرچہ ان کی بعض روایات میں اوہام ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3959]
حدیث نمبر: Q3959
وقَدْ تَكَلَّمَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ فِي مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، ثُمَّ رَوَى عَنْهُ.
یحیی بن سعید القطان نے محمد بن عمرو پر کلام کیا، پھر ان سے روایت کی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3959]
حدیث نمبر: Q3959
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ الْقُدُّوسِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَطَّارُ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ قَالَ: سَأَلْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَةَ، قَالَ: تُرِيدُ الْعَفْوَ أَوْ تُشَدِّدُ. فَقَالَ: لا، بَلْ أُشَدِّدُ قَالَ: لَيْسَ هُوَ مِمَّنْ تُرِيدُ، كَانَ يَقُولُ: أَشْيَاخُنَا أَبُو سَلَمَةَ وَيَحْيَى بْنُ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَاطِبٍ.
علی بن المدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید القطان سے محمد بن عمرو بن علقمہ کے بارے میں دریافت کیا تو آپ نے کہا: کیا ان کے بارے میں عفو و درگزر پر مبنی رائے چاہتے ہو یا سخت بات؟ کہا: نہیں، سخت بات چاہتا ہوں؟ جواب دیا: وہ اس معیار کے نہیں جو تمہیں مطلوب ہے وہ روایت میں کہتے تھے: ہمارے مشائخ ابوسلمہ اور یحییٰ بن عبدالرحمٰن بن حاطب ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3959]
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ يَحْيَى: سَأَلْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو فَقَالَ: فِيهِ نَحْوَ مَا قُلْتُ.
یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں: میں نے مالک بن انس سے محمد بن عمرو کے بارے میں سوال کیا تو میرے قول کی طرح ان کے بارے میں مالک نے عرض کیا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3959]
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ عَلِيٌّ: قَالَ: يَحْيَى: وَمُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو أَعْلَى مِنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَهُوَ عِنْدِي فَوْقَ عَبْدِالرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ.
علی بن المدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعیدالقطان کہتے ہیں: محمد بن عمرو، سہیل بن ابی صالح سے افضل ہیں، وہ میرے نزدیک عبدالرحمٰن بن حرملہ پر فوقیت رکھتے ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3959]
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ عَلِيٌّ: فَقُلْتُ لِيَحْيَى: مَا رَأَيْتَ مِنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَرْمَلَةَ؟ قَالَ: لَوْ شِئْتُ أَنْ أُلَقِّنَهُ لَفَعَلْتُ. قُلْتُ: كَانَ يُلَقَّنُ؟ قَالَ: نَعَمْ.
علی بن المدینی کہتے ہیں: میں نے یحییٰ بن سعید بن القطان سے پوچھا: عبدالرحمٰن بن حرملہ کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ کہا: اگر میں ان کو تلقین کرنا چاہوں تو کر سکتا ہوں، میں نے کہا: کیا ان کو تلقین کی جاتی تھی؟ کہا: ہاں!۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3959]
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ عَلِيٌّ: وَلَمْ يَرْوِ يَحْيَى عَنْ شَرِيكٍ، وَلا عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، وَلا عَنْ الرَّبِيعِ بْنِ صَبِيحٍ، وَلا عَنْ الْمُبَارَكِ بْنِ فَضَالَةَ.
علی بن المدینی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید القطان نے تو نہ شریک سے روایت کی، نہ ابوبکر بن عیاش سے، نہ ربیع بن صبیح سے اور نہ ہی مبارک بن فضالہ سے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3959]
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَإِنْ كَانَ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ قَدْ تَرَكَ الرِّوَايَةَ عَنْ هَؤُلائِ؛ فَلَمْ يَتْرُكْ الرِّوَايَةَ عَنْهُمْ أَنَّهُ اتَّهَمَهُمْ بِالْكَذِبِ، وَلَكِنَّهُ تَرَكَهُمْ لِحَالِ حِفْظِهِمْ. وذُكِرَ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ أَنَّهُ كَانَ إِذَا رَأَى الرَّجُلَ يُحَدِّثُ عَنْ حِفْظِهِ مَرَّةً هَكَذَا وَمَرَّةً هَكَذَا، لايَثْبُتُ عَلَى رِوَايَةٍ وَاحِدَةٍ؛ تَرَكَهُ.
ترمذی کہتے ہیں: یحییٰ بن سعید القطان نے گرچہ ان لوگوں سے حدیث کی روایت ترک کر دی تھی، لیکن ان کو کذب کے اتہام کی وجہ سے نہیں چھوڑا تھا، انہیں صرف ان کے حافظہ کی کمزوری کی وجہ سے چھوڑا تھا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3959]
حدیث نمبر: Q3959
وَقَدْ حَدَّثَ عَنْ هَؤُلائِ الَّذِينَ تَرَكَهُمْ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، وَوَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، وَعَبْدُالرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ وَغَيْرُهُمْ مِنْ الأَئِمَّةِ.
یحیی بن سعید القطان سے مروی ہے کہ وہ جب کسی راوی کو ایک مرتبہ اپنے حافظہ سے روایت کرتے دیکھتے، اور دوسری مرتبہ اپنی کتاب سے اور دونوں حالتوں میں وہ ایک روایت پر ثابت قدم نہیں رہتا تو اس کو ترک کر دیتے تھے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3959]
حدیث نمبر: Q3959
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَهَكَذَا تَكَلَّمَ بَعْضُ أَهْلِ الْحَدِيثِ فِي سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَحَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ، وَأَشْبَاهِ هَؤُلائِ مِنْ الأَئِمَّةِ إِنَّمَا تَكَلَّمُوا فِيهِمْ مِنْ قِبَلِ حِفْظِهِمْ فِي بَعْضِ مَا رَوَوْا، وَقَدْ حَدَّثَ عَنْهُمْ الأَئِمَّةُ.
اور جن رواۃ کو یحییٰ القطان نے ترک کر دیا تھا ان سے عبداللہ بن المبارک، وکیع بن جراح، عبدالرحمٰن بن مہدی وغیرہ ائمہ حدیث نے روایت کی ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3959]