🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3956)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. (باب)
(حدیث سننے اور اسے روایت کرنے میں استعمال ہونے والے صیغے اور ان کے بارے میں محدثین کے مذاہب)
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَالْقِرَائَةُ عَلَى الْعَالِمِ إِذَا كَانَ يَحْفَظُ مَا يُقْرَأُ عَلَيْهِ أَوْ يُمْسِكُ أَصْلَهُ فِيمَا يُقْرَأُ عَلَيْهِ إِذَا لَمْ يَحْفَظْ هُوَ صَحِيحٌ عِنْدَ أَهْلِ الْحَدِيثِ مِثْلُ السَّمَاعِ.
‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں: عالم پر حدیث پڑھنا اگر وہ ان پڑھی جانے والی احادیث کا حافظ ہے، یا اگر وہ حافظ حدیث نہیں ہے تو اس پر پڑھی جانے والی کتاب کی اصل اس کے ہاتھ میں ہے تو یہ اہل حدیث کے نزدیک سماع کی طرح صحیح ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مَهْدِيٍّ الْبَصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَطَائِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ أَقُولُ؟ فَقَالَ: قُلْ:"حَدَّثَنَا".
‏‏‏‏ ابن جریج کہتے ہیں: میں نے عطاء بن ابی رباح پر پڑھا تو ان سے کہا کہ میں کیسے کہوں؟ کہا: کہو «حدثنا» ہم سے (شیخ نے) اس حدیث کو بیان کیا۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِي عِصْمَةَ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ: أَنَّ نَفَرًا قَدِمُوا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ مِنْ أَهْلِ الطَّائِفِ بِكِتَابٍ مِنْ كُتُبِهِ فَجَعَلَ يَقْرَأُ عَلَيْهِمْ فَيُقَدِّمُ وَيُؤَخِّرُ فَقَالَ: إِنِّي بَلِهْتُ لِهَذِهِ الْمُصِيبَةِ؛ فَاقْرَئُوا عَلَيَّ؛ فَإِنَّ إِقْرَارِي بِهِ كَقِرَائَتِي عَلَيْكُمْ.
‏‏‏‏ عکرمہ کہتے ہیں: ابن عباس کے پاس طائف کی ایک جماعت آئی جن کے ہاتھ میں ابن عباس کی کتابوں میں سے ایک کتاب تھی، تو ابن عباس نے ان پر پڑھنا شروع کر دیا کبھی آگے سے پڑھتے اور کبھی پیچھے سے پڑھنے لگتے اور کہا: میں اس مصیبت سے عاجز ہوں، تم مجھ پر پڑھو، میرا اقرار ویسے ہی ہے جیسے میں تم پر پڑھوں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ، أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مَنْصُورِ بْنِ الْمُعْتَمِرِ قَالَ: إِذَا نَاوَلَ الرَّجُلُ كِتَابَهُ آخَرَ فَقَالَ: ارْوِ هَذَا عَنِّي؛ فَلَهُ أَنْ يَرْوِيَهُ.
‏‏‏‏ منصور بن معتمر کہتے ہیں: آدمی جب کسی کو اپنی کتاب ہاتھ میں پکڑا دے اور کہے کہ یہ مجھ روایت کرو تو اس کے لیے جائز ہے کہ اس کی روایت کرے (اس کو محدثین کی اصطلاح میں «مناولہ» کہتے ہیں)۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3961
و سَمِعْت مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَاعِيلَ يَقُولُ: سَأَلْتُ أَبَا عَاصِمٍ النَّبِيلَ عَنْ حَدِيثٍ فَقَالَ: اقْرَأْ عَلَيَّ؛ فَأَحْبَبْتُ أَنْ يَقْرَأَ هُوَ فَقَالَ: أَأَنْتَ لا تُجِيزُ الْقِرَائَةَ، وَقَدْ كَانَ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ يُجِيزَانِ الْقِرَائَةَ؟!.
‏‏‏‏ میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا: میں نے ابوعاصم النبیل سے ایک حدیث کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے فرمایا: مجھ پر پڑھو، میں نے یہ پسند کیا کہ وہ پڑھیں تو انہوں نے کہا: کیا تم قراءۃ (شیخ پر پڑھنے) کو جائز نہیں کہتے، جب کہ سفیان ثوری اور مالک بن انس شیخ پر قراءۃ کو جائز کہتے تھے!۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُعْفِيُّ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: قَالَ عَبْدُاللَّهِ بْنُ وَهْبٍ مَا قُلْتُ:"حَدَّثَنَا" فَهُوَ مَا سَمِعْتُ مَعَ النَّاسِ وَمَا قُلْتُ:"حَدَّثَنِي" فَهُوَ مَا سَمِعْتُ وَحْدِي وَمَا قُلْتُ:"أَخْبَرَنَا" فَهُوَ مَا قُرِئَ عَلَى الْعَالِمِ وَأَنَا شَاهِدٌ، وَمَا قُلْتُ:"أَخْبَرَنِي" فَهُوَ مَا قَرَأْتُ عَلَى الْعَالِمِ يَعْنِي وَأَنَا وَحْدِي.
‏‏‏‏ عبداللہ بن وہب کہتے ہیں: میں نے حدیث کی روایت میں «حدثنا» کا صیغہ استعمال کیا تو اس سے مراد وہ احادیث ہیں جن کو ہم نے لوگوں کے ساتھ سنا، اور جب میں «حدثنا» کہتا ہوں تو وہ میری تنہا مسموعات میں سے ہیں، اور جب «أخبرنا» کہتا ہوں تو وہ عالم حدیث پر پڑھی جانے والی احادیث ہیں، جن میں میں حاضر تھا، اور جب میں «اخبرنی» کہتا ہوں تو وہ میری عالم حدیث پر تنہا پڑھی ہوئی روایات ہوتی ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3961
وسَمِعْت أَبَا مُوسَى مُحَمَّدَ بْنَ الْمُثَنَّى يَقُولُ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ الْقَطَّانَ، يَقُولُ:"حَدَّثَنَا" وَ"أَخْبَرَنَا" وَاحِد.
‏‏‏‏ یحیی بن سعید القطان کہتے ہیں: «حدثنا» اور «أخبرنا» دونوں ہم معنی لفظ ہیں۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَبُو عِيسَى: كُنَّا عِنْدَ أَبِي مُصْعَبٍ الْمَدِينِيِّ فَقُرِئَ عَلَيْهِ بَعْضُ حَدِيثِهِ فَقُلْتُ لَهُ: كَيْفَ نَقُولُ؟ فَقَالَ: قُلْ: حَدَّثَنَا أَبُو مُصْعَبٍ.
‏‏‏‏ ترمذی کہتے ہیں: ہم ابو مصعب کے پاس تھے، ان پر ان کی بعض احادیث کو پڑھا گیا تو میں نے ان سے کہا: ہم حدیث روایت کرتے وقت کون سا صیغہ استعمال کریں؟ کہا: کہو: «حدثنا ابو مصعب» یعنی ہم سے ابومصعب نے حدیث بیان کی۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3961
قَالَ أَبُو عِيسَى: وَقَدْ أَجَازَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ الإِجَازَةَ إِذَا أَجَازَ الْعَالِمُ لأَحَدٍ أَنْ يَرْوِيَ عَنْهُ شَيْئًا مِنْ حَدِيثِهِ فَلَهُ أَنْ يَرْوِيَ عَنْهُ.
‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں: بعض اہل علم نے اجازئہ حدیث کو جائز کہا ہے، جب عالم حدیث کسی کو اپنی کسی حدیث کی روایت کی اجازت دے تو اس (مستجیز) کے لیے جائز ہے کہ وہ مجیز (یعنی اجازئہ حدیث دینے والے شیخ) سے روایت کرے۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3961
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلانَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُدَيْرٍ، عَنْ أَبِي مِجْلَزٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ قَالَ: كَتَبْتُ كِتَابًا عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ؛ فَقُلْتُ: أَرْوِيهِ عَنْكَ؟ قَالَ: نَعَمْ.
‏‏‏‏ بشیر بن نہیک کہتے ہیں: میں نے ابوہریرہ کی روایت سے ایک کتاب لکھی تو ان سے کہا کہ میں اسے آپ سے روایت کروں؟ کہا: ہاں، روایت کرو۔ [سنن ترمذي/کتاب العلل/حدیث: Q3961]