🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية ابن القاسم میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (657)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

جس کے تین یا دو بچے فوت ہو جائیں، اس کی فضیلت
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 239
15- وبه: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد فتمسه النار إلا تحلة القسم.“
اور اسی سند کے ساتھ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسلمانوں میں سے جس کے تین بچے فوت ہو جائیں تو اسے (جہنم کی) آگ نہیں چھوئے گی سوائے قسم پوری کرنے کے۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 239]
تخریج الحدیث: «15- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 235/1 ح 557، ك 16 ب 13 ح 38) التمهيد 346/6، الاستذكار: 511، و أخرجه البخاري (6656)، ومسلم (2632) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 240
94- مالك عن محمد بن أبى بكر بن محمد بن عمرو بن حزم عن أبيه عن أبى النضر السلمي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”لا يموت لأحد من المسلمين ثلاثة من الولد فيحتسبهم إلا كانوا له جنة من النار.“ فقالت: امرأة عند رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا رسول الله، أو اثنان. قال: ”أو اثنان.“
سیدنا ابوالنضر السمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر مسلمانوں میں سے جس کے بھی تین بچے فوت ہو جائیں اور وہ صبر کرے اور اللہ سے اجر کی امید رکھے تو یہ بچے اس کے لئے جہنم سے ڈھال یعنی رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ ایک عورت جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی، کہنے لگی: یا رسول اللہ! یا دو (بچے فوت ہو جائیں)؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یا دو (بچے فوت ہو جائیں تو وہ بھی جہنم سے ڈھال بن جاتے ہیں)۔ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 240]
تخریج الحدیث: «94- الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 235/1 ح 558، ك 16 ب 13 ح 39 وعنده ”عن ابي النضر“ وهوالصواب) التمهيد 86/13، 87، الاستذكار: 512، و أخرجه ابولقاسم الجوهري فى مسند الموطأ (245/262) من حديث مالك به، وللحديث شواهد عند البخاري (101) و مسلم (2633) وغيرهما والحديث بها صحيح»
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں