🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

موطا امام مالك رواية ابن القاسم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

موطا امام مالك رواية ابن القاسم میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (657)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

آداب مجلس کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 459
126- مالك عن إسحاق بن عبد الله بن أبى طلحة أن أبا مرة مولى عقيل ابن أبى طالب أخبره عن أبى واقد الليثي: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم بينما هو جالس فى المسجد والناس معه إذ أقبل نفر ثلاثة، فأقبل اثنان إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وذهب واحد. قال: فلما وقفا على رسول الله صلى الله عليه وسلم سلما. فأما أحدهما فرأى فرجة فى الحلقة فجلس فيها، وأما الأخر فجلس خلفهم، وأما الثالث فأدبر ذاهبا. فلما فرغ رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: ”ألا أخبركم عن النفر الثلاثة؟ أما أحدهم فأوى إلى الله فآواه الله وأما الآخر فاستحيى فاستحيى الله منه، وأما الآخر فأعرض فأعرض الله عنه.“
سیدنا ابوواقد اللیثی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھے کہ اتنے میں تین آدمیوں کا ایک گروہ آیا ان میں سے دو تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور ایک واپس چلا گیا، جب وہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو دونوں نے سلام کیا پھر ایک نے حلقے میں تھوڑی سی جگہ دیکھی تو وہاں بیٹھ گیا اور دوسرا لوگوں کے آخر میں بیٹھ گیا اور تیسرا پیٹھ پھیر کر چلا گیا جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  (خطبے یا درس سے) فارغ ہوئے تو فرمایا: ”کیا میں تمہیں تین آدمیوں  کی بات نہ بتاؤں؟ ایک نے اللہ سے جگہ مانگی تو اللہ نے اسے جگہ دے دی، دوسرے نے حیا کی تو اللہ نے اس سے حیا کی اور تیسرے نے منہ پھیرا تو اللہ نے اس سے اعراض فرمایا۔  “ [موطا امام مالك رواية ابن القاسم/حدیث: 459]
تخریج الحدیث: «126- متفق عليه، الموطأ (رواية يحييٰ بن يحييٰ 960/2، 961 ح 1857، ك 53 ب 3 ح 4) التمهيد 315/1، وقال: ”حديث متصل صحيح“، الاستذكار: 1793، و أخرجه البخاري (66) ومسلم (2176) من حديث مالك به.»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں