صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ إِذَا اسْتَأْجَرَ أَجِيرًا عَلَى أَنْ يُقِيمَ حَائِطًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ جَازَ:
باب: اگر کوئی شخص کسی کو اس کام پر مقرر کرے کہ وہ گرتی ہوئی دیوار کو درست کر دے تو جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2267
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى، أَخْبَرَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ، أَنَّ ابْنَ جُرَيْجٍ أَخْبَرَهُمْ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَعْلَى بْنُ مُسْلِمٍ، وَعَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، يَزِيدُ أَحَدُهُمَا عَلَى صَاحِبِهِ وَغَيْرُهُمَا، قَالَ: قَدْ سَمِعْتُهُ يُحَدِّثُهُ عَنْ سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ لِي ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَانْطَلَقَا، فَوَجَدَا جِدَارًا يُرِيدُ أَنْ يَنْقَضَّ، قَالَ سَعِيدٌ: بِيَدِهِ هَكَذَا، وَرَفَعَ يَدَيْهِ فَاسْتَقَامَ، قَالَ يَعْلَى: حَسِبْتُ أَنْ سَعِيدًا، قَالَ: فَمَسَحَهُ بِيَدِهِ فَاسْتَقَامَ، لَوْ شِئْتَ لَاتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا، قَالَ سَعِيدٌ: أَجْرًا نَأْكُلُهُ".
ہم سے ابراہیم بن موسیٰ نے بیان کیا، کہا کہ ہم کو ہشام بن یوسف نے خبر دی، کہا کہ مجھے یعلیٰ بن مسلم اور عمرو بن دینار نے سعید سے خبر دی۔ یہ دونوں حضرات (سعید بن جبیر سے اپنی روایتوں میں) ایک دوسرے سے کچھ زیادہ روایت کرتے ہیں۔ ابن جریج نے کہا میں نے یہ حدیث اوروں سے بھی سنی ہے۔ وہ بھی سعید بن جبیر سے نقل کرتے تھے کہ مجھ سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا، اور ان سے ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ پھر وہ دونوں (موسیٰ اور خضر علیہما السلام) چلے۔ تو انہیں ایک گاؤں میں ایک دیوار ملی جو گرنے ہی والی تھی۔ سعید نے کہا خضر علیہ السلام نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کیا اور ہاتھ اٹھایا، وہ دیوار سیدھی ہو گئی۔ یعلیٰ نے کہا میرا خیال ہے کہ سعید نے کہا، خضر علیہ السلام نے دیوار کو اپنے ہاتھ سے چھوا، اور وہ سیدھی ہو گئی، تب موسیٰ علیہ السلام بولے کہ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی مزدوری لے سکتے تھے۔ سعید نے کہا کہ (موسیٰ علیہ السلام کی مراد یہ تھی کہ) کوئی ایسی چیز مزدوری میں (آپ کو لینی چاہئیے تھی) جسے ہم کھا سکتے (کیونکہ بستی والوں نے ان کو کھانا نہیں کھلایا تھا)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: 2267]
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھ سے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ دونوں (حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام) چلتے رہے، حتیٰ کہ جب ایک بستی پر آئے تو انہوں نے بستی والوں سے کھانا طلب کیا۔ بستی والوں نے ان کی مہمان نوازی سے انکار کیا تو انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرا چاہتی تھی۔“ راویِ حدیث سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ کر کے بتایا کہ حضرت خضر علیہ السلام نے ہاتھ اٹھایا تو دیوار کھڑی ہو گئی۔ ایک دوسرے راوی یعلی بن مسلم کے گمان کے مطابق سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے بتایا کہ انہوں نے دیوار کو اپنے ہاتھ سے چھوا تو وہ کھڑی ہو گئی۔ (حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس پر کہا:) ”اگر آپ چاہتے تو اس کام کی مزدوری لے لیتے۔“ راویِ حدیث سعید بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ان کی مراد اجرت تھی کہ ہم اسے کھاتے (استعمال میں لاتے)۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْإِجَارَةِ/حدیث: 2267]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة