شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
عورتوں اور مردوں کی خوشبو
حدیث نمبر: 218
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ الْحَفَرِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «طِيبُ الرِّجَالِ مَا ظَهَرَ رِيحُهُ وَخَفِيَ لَوْنُهُ، وَطِيبُ النِّسَاءِ مَا ظَهَرَ لَوْنُهُ وَخَفِيَ رِيحُهُ»
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مردانہ خوشبو وہ ہے کہ اس کی خوشبو ظاہر ہو اور رنگ ظاہر نہ ہو، اور زنانہ خوشبو وہ ہے کہ اس کی خوشبو ظاہر نہ ہو اور رنگ ظاہر ہو۔“ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعَطُّرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 218]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«(سنن ترمذي: 2787 وقال: حسن . . .)»
اس روایت کی سند میں طفاوی نامی راوی مجہول الحال ہے، جس کی تو ثیق سوائے ترمذی کے کسی نے نہیں کی، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
اس روایت کے ضعیف شواہد بھی ہیں۔ مثلاً دیکھئے انوار الصحیفہ (ص269)
«(سنن ترمذي: 2787 وقال: حسن . . .)»
اس روایت کی سند میں طفاوی نامی راوی مجہول الحال ہے، جس کی تو ثیق سوائے ترمذی کے کسی نے نہیں کی، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
اس روایت کے ضعیف شواہد بھی ہیں۔ مثلاً دیکھئے انوار الصحیفہ (ص269)
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف
حدیث نمبر: 219
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ قَالَ: أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنِ الطُّفَاوِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ بِمَعْنَاهُ
طفاوی نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مثل اس کے ہم معنی روایت بیان کی ہے۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي تَعَطُّرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 219]
تخریج الحدیث: { «سنده ضعيف» }:
«(سنن ترمذي: 2787 وقال: حسن . . .)»
اس روایت کی سند میں طفاوی نامی راوی مجہول الحال ہے، جس کی تو ثیق سوائے ترمذی کے کسی نے نہیں کی، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
اس روایت کے ضعیف شواہد بھی ہیں۔ مثلاً دیکھئے انوار الصحیفہ (ص269)
«(سنن ترمذي: 2787 وقال: حسن . . .)»
اس روایت کی سند میں طفاوی نامی راوی مجہول الحال ہے، جس کی تو ثیق سوائے ترمذی کے کسی نے نہیں کی، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
اس روایت کے ضعیف شواہد بھی ہیں۔ مثلاً دیکھئے انوار الصحیفہ (ص269)
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف