🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

شمائل ترمذی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (417)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

حدیث خرافہ
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 251
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ صَبَّاحٍ الْبَزَّارُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الثَّقَفِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَقِيلٍ، عَنْ مُجَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: حَدَّثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ نِسَاءَهُ حَدِيثًا، فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ: كَأَنَّ الْحَدِيثَ حَدِيثُ خُرَافَةَ فَقَالَ:" أَتَدْرُونَ مَا خُرَافَةُ؟ إِنَّ خُرَافَةَ كَانَ رَجُلًا مِنْ عُذْرَةَ، أَسَرَتْهُ الْجِنُّ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَكَثَ فِيهِمْ دَهْرًا، ثُمَّ رَدُّوهُ إِلَى الْإِنْسِ فَكَانَ يُحَدِّثُ النَّاسَ بِمَا رَأَى فِيهِمْ مِنَ الْأَعَاجِيبِ، فَقَالَ النَّاسُ: حَدِيثُ خُرَافَةَ"
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو ایک قصہ سنایا تو ان میں سے ایک خاتون نے کہا: یہ قصہ تو خرافہ کے قصہ کی طرح ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا تم جانتی ہو کہ خرافہ کون تھا؟ (پھر خود ہی ارشاد فرمایا) یہ بنو عذرہ کا ایک شخص تھا جس کو زمانہ جاہلیت میں جنات پکڑ کر لے گئے تھے اور وہ ان میں ایک عرصہ تک رہا۔ پھر جنوں نے اسے انسانوں کی طرف واپس بھیج دیا۔ اس نے جنوں میں جو عجیب و غریب واقعات دیکھے تھے وہ ان لوگوں سے بیان کرتا تو لوگ کہتے تھے کہ یہ خرافہ کی بات ہے۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي كَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّمَرِ/حدیث: 251]
تخریج الحدیث: { «‏‏‏‏سنده ضعيف» ‏‏‏‏ }:
اس روایت کی سند میں مجال بن سعید الہمدانی برے حافظے کی وجہ سے جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف راوی ہے، لہٰذا یہ سند ضعیف ہے۔
بطور فائدہ عرض ہے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نماز عشاء سے پہلے سونا اور بعد میں باتیں کرنا مکروہ وممنوع ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری (568)
اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کے بعد گفتکو فرمائی ہے۔ دیکھئے صحیح بخاری (116، 117) وصحیح مسلم (763، 2537)
ان دونوں احادیث میں تطبیق یہ ہے کہ عشاء کے بعد فضول وبے فائدہ گفتگو منع ہے اور ضروری اور مفید گفتگو جائز ہے۔ واللہ اعلم
قال الشيخ زبير على زئي:سنده ضعيف

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں