شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
شعبان کے مکمل روزوں سے مراد اکثر روزے ہیں
حدیث نمبر: 300
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: «مَا رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُومُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ إِلَا شَعْبَانَ وَرَمَضَانَ» قَالَ أَبُو عِيسَى:" هَذَا إِسنَادٌ صَحِيحٌ وَهَكَذَا قَالَ: عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ. وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيُحْتَمَلُ أَنْ يَكُونَ أَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَدْ رَوَى الْحَدِيثَ، عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ جَمِيعًا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ"
ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ فرماتی ہیں کہ شعبان اور رمضان کے علاوہ مسلسل دو ماہ کے روزے رکھتے میں نے کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہیں دیکھا۔ امام ابوعیسیٰ ترمذی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ یہ اسناد صحیح ہے، راوی نے اسی طرح «عن أبي سلمة عن أم سلمة» کہا ہے۔ یہ حدیث ایک سے زائد لوگوں نے «عن أبي سلمة عن عائشة عن النبي صلى الله عليه وسلم» کے طریق سے روایت کی ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ابوسلمہ بن عبدالرحمن نے یہ حدیث «عن عائشة وأم سلمة رضي الله عنهما عن النبي صلى الله عليه وسلم» روایت کی ہو۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صَوْمِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 300]
تخریج الحدیث: { «صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 736، وقال: حديث حسن)، سنن نسائي (150/4 ح2177)»
اس حدیث کی سند اگرچہ سفیان ثوری کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سنن نسائی (2128) وغیرہ میں اس کے صحیح شواہد ہیں۔ جن کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے۔
«(سنن ترمذي: 736، وقال: حديث حسن)، سنن نسائي (150/4 ح2177)»
اس حدیث کی سند اگرچہ سفیان ثوری کے عن کی وجہ سے ضعیف ہے، لیکن سنن نسائی (2128) وغیرہ میں اس کے صحیح شواہد ہیں۔ جن کے ساتھ یہ بھی صحیح ہے۔
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح