شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے لیے قیام تعظیمی کو ناپسند کرتے تھے
حدیث نمبر: 334
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: «لَمْ يَكُنْ شَخْصٌ أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» قَالَ: «وَكَانُوا إِذَا رَأَوْهُ لَمْ يَقُومُوا، لِمَا يَعْلَمُونَ مِنْ كَرَاهَتِهِ لِذَلِكَ»
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، انہوں نے فرمایا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر محبوب اور پیارا اور کوئی بھی نہ تھا اور وہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے آپ کے لیے کھڑے نہیں ہوتے تھے کیونکہ وہ اس فعل پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ناپسندیدگی اور ناراضگی کو جانتے تھے۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي تَوَاضُعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 334]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«(سنن ترمذي: 2754، وقال: حسن صحيح)، مسند احمد (250/3)»
«(سنن ترمذي: 2754، وقال: حسن صحيح)، مسند احمد (250/3)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح