شمائل ترمذي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کو نہیں مارا سوائے؟
حدیث نمبر: 347
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «مَا ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ شَيْئًا قَطُّ إِلَا أَنْ يُجَاهِدَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَلَا ضَرَبَ خَادِمًا أَوِ امْرَأَةً»
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے کبھی کسی کو نہیں مارا سوائے اللہ کے راستے میں جہاد کرتے ہوئے، اور نہ کبھی خادم کو مارا اور نہ بیوی کو مارا تھا۔ [شمائل ترمذي/بَابُ مَا جَاءَ فِي خُلُقِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ/حدیث: 347]
تخریج الحدیث: { «سنده صحيح» }:
«صحيح مسلم (2328)»
«صحيح مسلم (2328)»
قال الشيخ زبير على زئي:سنده صحيح