صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ اسْتِعْمَالِ الْبَقَرِ لِلْحِرَاثَةِ:
باب: کھیتی کے لیے بیل سے کام لینا۔
حدیث نمبر: 2324
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَمَا رَجُلٌ رَاكِبٌ عَلَى بَقَرَةٍ الْتَفَتَتْ إِلَيْهِ، فَقَالَتْ: لَمْ أُخْلَقْ لِهَذَا خُلِقْتُ لِلْحِرَاثَةِ، قَالَ: آمَنْتُ بِهِ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَأَخَذَ الذِّئْبُ شَاةً، فَتَبِعَهَا الرَّاعِي، فَقَالَ لَهُ الذِّئْبُ: مَنْ لَهَا يَوْمَ السَّبُعِ، يَوْمَ لَا رَاعِيَ لَهَا غَيْرِي، قَالَ: آمَنْتُ بِهِ أَنَا، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ". قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَمَا هُمَا يَوْمَئِذٍ فِي الْقَوْمِ.
ہم سے محمد بن بشار نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے غندر نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا، ان سے سعد بن ابراہیم نے انہوں نے ابوسلمہ سے سنا اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (بنی اسرائیل میں سے) ایک شخص بیل پر سوار ہو کر جا رہا تھا کہ اس بیل نے اس کی طرف دیکھا اور اس سوار سے کہا کہ میں اس کے لیے نہیں پیدا ہوا ہوں۔ میری پیدائش تو کھیت جوتنے کے لیے ہوئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس پر ایمان لایا اور ابوبکر اور عمر بھی ایمان لائے۔ اور ایک دفعہ ایک بھیڑئیے نے ایک بکری پکڑ لی تھی تو گڈریے نے اس کا پیچھا کیا۔ بھیڑیا بولا! آج تو تو اسے بچاتا ہے۔ جس دن (مدینہ اجاڑ ہو گا) درندے ہی درندے رہ جائیں گے۔ اس دن میرے سوا کون بکریوں کا چرانے والا ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس پر ایمان لایا اور ابوبکر اور عمر بھی۔ ابوسلمہ نے کہا کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما اس مجلس میں موجود نہیں تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُزَارَعَةِ/حدیث: 2324]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کوئی شخص ایک بیل پر سوار ہو کر جا رہا تھا تو بیل نے متوجہ ہو کر کہا کہ میں اس (سواری) کے لیے نہیں بلکہ کھیتی کے لیے پیدا کیا گیا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی یقین رکھتے ہیں۔“ نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک بھیڑیا بکری لے گیا تو چرواہا اس کے پیچھے بھاگا تو بھیڑیے نے کہا کہ جس دن (مدینہ میں) درندے ہی درندے ہوں گے تو اس دن بکریوں کا محافظ کون ہو گا؟ اس دن تو میرے علاوہ کوئی ان کا نگران نہیں ہو گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اس پر یقین رکھتا ہوں اور ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما بھی اس پر یقین رکھتے ہیں۔“ (راویِ حدیث) حضرت ابوسلمہ (حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے) بیان کرتے ہیں کہ اس دن یہ دونوں حضرات مجلس میں موجود نہیں تھے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُزَارَعَةِ/حدیث: 2324]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة