🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

13. بَابُ إِذَا زَرَعَ بِمَالِ قَوْمٍ بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ وَكَانَ فِي ذَلِكَ صَلاَحٌ لَهُمْ:
باب: جب کسی کے مال سے ان کی اجازت کے بغیر ہی کاشت کی اور اس میں ان کا ہی فائدہ رہا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2333
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا أَبُو ضَمْرَةَ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" بَيْنَمَا ثَلَاثَةُ نَفَرٍ يَمْشُونَ، أَخَذَهُمُ الْمَطَرُ، فَأَوَوْا إِلَى غَارٍ فِي جَبَلٍ، فَانْحَطَّتْ عَلَى فَمِ غَارِهِمْ صَخْرَةٌ مِنَ الْجَبَلِ، فَانْطَبَقَتْ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ: انْظُرُوا أَعْمَالًا عَمِلْتُمُوهَا صَالِحَةً لِلَّهِ، فَادْعُوا اللَّهَ بِهَا لَعَلَّهُ يُفَرِّجُهَا عَنْكُمْ، قَالَ أَحَدُهُمْ: اللَّهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ كُنْتُ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا رُحْتُ عَلَيْهِمْ حَلَبْتُ، فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ أَسْقِيهِمَا قَبْلَ بَنِيَّ، وَإِنِّي اسْتَأْخَرْتُ ذَاتَ يَوْمٍ فَلَمْ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَوَجَدْتُهُمَا نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ، فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ، وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ لَنَا فَرْجَةً نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ اللَّهُ، فَرَأَوْا السَّمَاءَ. وَقَالَ الْآخَرُ: اللَّهُمَّ إِنَّهَا كَانَتْ لِي بِنْتُ عَمٍّ أَحْبَبْتُهَا كَأَشَدِّ مَا يُحِبُّ الرِّجَالُ النِّسَاءَ، فَطَلَبْتُ مِنْهَا فَأَبَتْ عَلَيَّ حَتَّى أَتَيْتُهَا بِمِائَةِ دِينَارٍ، فَبَغَيْتُ حَتَّى جَمَعْتُهَا، فَلَمَّا وَقَعْتُ بَيْنَ رِجْلَيْهَا، قَالَتْ: يَا عَبْدَ اللَّهِ، اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَفْتَحْ الْخَاتَمَ إِلَّا بِحَقِّهِ، فَقُمْتُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُهُ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ عَنَّا فَرْجَةً، فَفَرَجَ. وَقَالَ الثَّالِثُ: اللَّهُمَّ إِنِّي اسْتَأْجَرْتُ أَجِيرًا بِفَرَقِ أَرُزٍّ، فَلَمَّا قَضَى عَمَلَهُ، قَالَ: أَعْطِنِي حَقِّي، فَعَرَضْتُ عَلَيْهِ، فَرَغِبَ عَنْهُ، فَلَمْ أَزَلْ أَزْرَعُهُ حَتَّى جَمَعْتُ مِنْهُ بَقَرًا وَرَاعِيَهَا، فَجَاءَنِي، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ، فَقُلْتُ: اذْهَبْ إِلَى ذَلِكَ الْبَقَرِ وَرُعَاتِهَا فَخُذْ، فَقَالَ: اتَّقِ اللَّهَ وَلَا تَسْتَهْزِئْ بِي، فَقُلْتُ: إِنِّي لَا أَسْتَهْزِئُ بِكَ فَخُذْ، فَأَخَذَهُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ فَافْرُجْ مَا بَقِيَ، فَفَرَجَ اللَّهُ". قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ: وَقَالَ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ: عَنْ نَافِعٍ، فَسَعَيْتُ.
ہم سے ابراہیم بن المنذر نے بیان کیا، ان سے ابوضمرہ نے بیان کیا، ان سے موسیٰ بن عقبہ نے بیان کیا، ان سے نافع نے اور ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تین آدمی کہیں چلے جا رہے تھے کہ بارش نے ان کو آ لیا۔ تینوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لے لی، اچانک اوپر سے ایک چٹان غار کے سامنے آ گری، اور انہیں (غار کے اندر) بالکل بند کر دیا۔ اب ان میں سے بعض لوگوں نے کہا کہ تم لوگ اب اپنے ایسے کاموں کو یاد کرو۔ جنہیں تم نے خالص اللہ تعالیٰ کے لیے کیا ہو اور اسی کام کا واسطہ دے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ ممکن ہے اس طرح اللہ تعالیٰ تمہاری اس مصیبت کو ٹال دے، چنانچہ ایک شخص نے دعا شروع کی۔ اے اللہ! میرے والدین بہت بوڑھے تھے اور میرے چھوٹے چھوٹے بچے بھی تھے۔ میں ان کے لیے (جانور) چرایا کرتا تھا۔ پھر جب واپس ہوتا تو دودھ دوہتا۔ سب سے پہلے، اپنی اولاد سے بھی پہلے، میں والدین ہی کو دودھ پلاتا تھا۔ ایک دن دیر ہو گئی اور رات گئے گھر واپس آیا، اس وقت میرے ماں باپ سو چکے تھے۔ میں نے معمول کے مطابق دودھ دوہا اور (اس کا پیالہ لے کر) میں ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں۔ لیکن اپنے بچوں کو بھی (والدین سے پہلے) پلانا مجھے پسند نہیں تھا۔ بچے صبح تک میرے قدموں پر پڑے تڑپتے رہے۔ پس اگر تیرے نزدیک بھی میرا یہ عمل صرف تیری رضا کے لیے تھا تو (غار سے اس چٹان کو ہٹا کر) ہمارے لیے اتنا راستہ بنا دے کہ آسمان نظر آ سکے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے راستہ بنا دیا اور انہیں آسمان نظر آنے لگا۔ دوسرے نے کہا اے اللہ! میری ایک چچازاد بہن تھی۔ مرد عورتوں سے جس طرح کی انتہائی محبت کر سکتے ہیں، مجھے اس سے اتنی ہی محبت تھی۔ میں نے اسے اپنے پاس بلانا چاہا لیکن وہ سو دینار دینے کی صورت راضی ہوئی۔ میں نے کوشش کی اور وہ رقم جمع کی۔ پھر جب میں اس کے دونوں پاؤں کے درمیان بیٹھ گیا، تو اس نے مجھ سے کہا، اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور اس کی مہر کو حق کے بغیر نہ توڑ۔ میں یہ سنتے ہی دور ہو گیا، اگر میرا یہ عمل تیرے علم میں بھی تیری رضا ہی کے لیے تھا تو (اس غار سے) پتھر کو ہٹا دے۔ پس غار کا منہ کچھ اور کھلا۔ اب تیسرا بولا کہ اے اللہ! میں نے ایک مزدور تین فرق چاول کی مزدوری پر مقرر کیا تھا جب اس نے اپنا کام پورا کر لیا تو مجھ سے کہا کہ اب میری مزدوری مجھے دیدے۔ میں نے پیش کر دی لیکن اس وقت وہ انکار کر بیٹھا۔ پھر میں برابر اس کی اجرت سے کاشت کرتا رہا اور اس کے نتیجہ میں بڑھنے سے بیل اور چرواہے میرے پاس جمع ہو گئے۔ اب وہ شخص آیا اور کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر! میں نے کہا کہ بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جا اور اسے لے لے۔ اس نے کہا اللہ سے ڈر! اور مجھ سے مذاق نہ کر، میں نے کہا کہ مذاق نہیں کر رہا ہوں۔ (یہ سب تیرا ہی ہے) اب تم اسے لے جاؤ۔ پس اس نے ان سب پر قبضہ کر لیا۔ الہٰی! اگر تیرے علم میں بھی میں نے یہ کام تیری خوشنودی ہی کے لیے کیا تھا تو تو اس غار کو کھول دے۔ اب وہ غار پورا کھل چکا تھا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا کہ ابن عقبہ نے نافع سے (اپنی روایت میں «فبغيت‏» کے بجائے) «فسعيت‏» نقل کیا ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُزَارَعَةِ/حدیث: 2333]
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: تین آدمی سفر میں جا رہے تھے کہ انہیں بارش نے آ لیا۔ انہوں نے ایک پہاڑ کی غار میں پناہ لی۔ غار کے منہ پر پہاڑ کے اوپر سے ایک پتھر آ گرا جس سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ انہوں نے ایک دوسرے سے کہا: تم اپنے اپنے اعمال پر نظر کرو کہ کس نے کیا کیا نیک عمل خالص اللہ کی رضا کے لیے کیا ہے، پھر اس کے وسیلے سے اللہ سے دعا کرو شاید اللہ تعالیٰ اس مصیبت کو تم سے دور کر دے۔ چنانچہ ان میں سے ایک نے کہا: اے اللہ! میرے بوڑھے والدین اور چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ میں ان کے لیے بکریاں چرایا کرتا تھا۔ جب میں لوٹتا تو دودھ دوہتا اور اپنے بچوں سے پہلے اپنے والدین کو دودھ پلاتا تھا۔ ایک دن مجھے دیر ہو گئی اور رات گئے تک گھر نہ آیا۔ جب آیا تو دیکھا کہ میرے والدین سو گئے ہیں۔ میں نے دودھ دوہا جیسا کہ میں دوہتا تھا اور اسی لیے ان کے سرہانے کھڑا رہا لیکن انہیں بیدار کرنا مجھے اچھا نہ لگا اور یہ بھی مجھے مناسب معلوم نہ ہوا کہ (والدین سے پہلے) بچوں کو دودھ پلا دوں، حالانکہ وہ میرے پاؤں کے پاس بلبلا رہے تھے۔ یہاں تک کہ اسی حالت میں فجر ہو گئی۔ (اے میرے رب!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا کے لیے کیا ہے تو ہم سے یہ پتھر دور کر دے کہ ہمیں آسمان نظر آئے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے کچھ پتھر ہٹا دیا جس سے انہوں نے آسمان دیکھا۔ دوسرے نے عرض کیا: اے اللہ! میری ایک چچازاد بہن تھی، میں اس سے بہت محبت کرتا تھا جیسا کہ مرد عورتوں سے بہت زیادہ محبت کرتے ہیں۔ میں نے اس سے اپنی خواہش کا اظہار کیا تو اس نے انکار کر دیا الا یہ کہ میں سو دینار اسے دوں۔ چنانچہ میں نے کوشش اور محنت کی یہاں تک کہ سو دینار جمع کر لیے۔ جب میں برے کام کے لیے اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان بیٹھا تو اس نے کہا: اے اللہ کے بندے! اللہ سے ڈر اور حق کے بغیر اس مہر کو نہ توڑ، تو میں اٹھ کھڑا ہوا۔ (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری رضا کے لیے کیا ہے تو ہم سے یہ پتھر ہٹا دے۔ وہ پتھر تھوڑا سا مزید اپنی جگہ سے ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے کہا: اے اللہ! میں نے ایک مزدور چاولوں کے ایک «فَرْق» فرق (پیمانہ) کے عوض مزدوری پر رکھا تھا۔ جب اس نے اپنا کام کر لیا تو کہا: مجھے میری اجرت دو۔ میں نے اسے اجرت پیش کی تو اس نے بے رغبتی سے کام لیا اور چلا گیا۔ میں ان چاولوں کو کاشت کرتا رہا، یہاں تک کہ میں نے اس سے گائیں خریدیں اور چرواہے بھی رکھ لیے۔ آخر کار وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اللہ سے ڈر۔ میں نے کہا: جاؤ وہ گائیں اور چرواہے سب تمہارے ہیں، انہیں لے جاؤ۔ اس نے دوبارہ کہا: اللہ سے ڈر اور میرے ساتھ مذاق نہ کر۔ میں نے کہا: میں تیرے ساتھ مذاق نہیں کر رہا، ان کو لے جاؤ تو وہ لے گیا۔ (اے اللہ!) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ عمل تیری خوشنودی کے لیے کیا ہے تو باقی ماندہ پتھر بھی ہٹا دے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وہ پتھر ہٹا دیا۔ ابوعبداللہ (امام بخاری رحمہ اللہ) نے کہا: اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ نے حضرت نافع سے «فَبَغَيْتُ» کی جگہ «فَسَعَيْتُ» کے الفاظ روایت کیے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُزَارَعَةِ/حدیث: 2333]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں