صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
20. بَابٌ:
باب:۔۔۔
حدیث نمبر: 2348
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، حَدَّثَنَا هِلَالٌ. ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا فُلَيْحٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَوْمًا يُحَدِّثُ وَعِنْدَهُ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ اسْتَأْذَنَ رَبَّهُ فِي الزَّرْعِ، فَقَالَ لَهُ: أَلَسْتَ فِيمَا شِئْتَ؟ قَالَ: بَلَى، وَلَكِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَزْرَعَ، قَالَ: فَبَذَرَ، فَبَادَرَ الطَّرْفَ نَبَاتُهُ وَاسْتِوَاؤُهُ وَاسْتِحْصَادُهُ، فَكَانَ أَمْثَالَ الْجِبَالِ، فَيَقُولُ: اللَّهُ دُونَكَ يَا ابْنَ آدَمَ، فَإِنَّهُ لَا يُشْبِعُكَ شَيْءٌ، فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: وَاللَّهِ لَا تَجِدُهُ إِلَّا قُرَشِيًّا أَوْ أَنْصَارِيًّا، فَإِنَّهُمْ أَصْحَابُ زَرْعٍ، وَأَمَّا نَحْنُ فَلَسْنَا بِأَصْحَابِ زَرْعٍ، فَضَحِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ہم سے محمد بن سنان نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے بیان کیا، (دوسری سند) اور ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابوعامر نے بیان کیا، ان سے فلیح نے بیان کیا، ان سے ہلال بن علی نے، ان سے عطاء بن یسار نے اور ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن بیان فرما رہے تھے ایک دیہاتی بھی مجلس میں حاضر تھا کہ اہل جنت میں سے ایک شخص اپنے رب سے کھیتی کرنے کی اجازت چاہے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کیا اپنی موجودہ حالت پر تو راضی نہیں ہے؟ وہ کہے گا کیوں نہیں! لیکن میرا جی کھیتی کرنے کو چاہتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر اس نے بیج ڈالا۔ پلک جھپکنے میں وہ اگ بھی آیا۔ پک بھی گیا اور کاٹ بھی لیا گیا۔ اور اس کے دانے پہاڑوں کی طرح ہوئے۔ اب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم! اسے رکھ لے، تجھے کوئی چیز آسودہ نہیں کر سکتی۔ یہ سن کر دیہاتی نے کہا کہ قسم اللہ کی وہ تو کوئی قریشی یا انصاری ہی ہو گا۔ کیونکہ یہی لوگ کھیتی کرنے والے ہیں۔ ہم تو کھیتی ہی نہیں کرتے۔ اس بات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہنسی آ گئی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُزَارَعَةِ/حدیث: 2348]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دیہاتی بیٹھا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بیان فرما رہے تھے: ”اہلِ جنت میں سے ایک شخص اپنے رب سے کاشتکاری کی اجازت طلب کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے فرمائے گا: کیا تو موجودہ حالت پر خوش نہیں ہے؟ وہ کہے گا: کیوں نہیں (خوش ہوں) لیکن مجھے کھیتی باڑی سے محبت ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ بیج کاشت کرے گا تو پلک جھپکنے میں وہ اگ آئے گا، فوراً سیدھا ہو جائے گا اور کاٹنے کے قابل ہو جائے گا، دیکھتے ہی دیکھتے پہاڑ کی طرح انبار لگ جائے گا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم علیہ السلام کے بیٹے! یہ لے لے، تجھے کوئی چیز سیر نہیں کر سکتی۔“ یہ سن کر دیہاتی کہنے لگا: اللہ کی قسم! وہ شخص قریشی یا انصاری ہو گا کیونکہ یہی لوگ کھیتی باڑی کرنے والے ہیں، ہم تو کھیتی باڑی والے لوگ نہیں۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمُزَارَعَةِ/حدیث: 2348]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة