🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. بَابُ التَّوَثُّقِ مِمَّنْ تُخْشَى مَعَرَّتُهُ:
باب: اگر شرارت کا ڈر ہو تو ملزم کا باندھنا درست ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q2422
وَقَيَّدَ ابْنُ عَبَّاسٍ عِكْرِمَةَ عَلَى تَعْلِيمِ الْقُرْآنِ وَالسُّنَنِ وَالْفَرَائِضِ.
‏‏‏‏ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے (اپنے غلام) عکرمہ کو قرآن و حدیث اور دین کے فرائض سیکھنے کے لیے قید کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْخُصُومَاتِ/حدیث: Q2422]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2422
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، يَقُولُ:" بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَيْلًا قِبَلَ نَجْدٍ، فَجَاءَتْ بِرَجُلٍ مِنْ بَنِي حَنِيفَةَ يُقَالُ لَهُ ثُمَامَةُ بْنُ أُثَالٍ سَيِّدُ أَهْلِ الْيَمَامَةِ، فَرَبَطُوهُ بِسَارِيَةٍ مِنْ سَوَارِي الْمَسْجِدِ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَا عِنْدَكَ يَا ثُمَامَةُ؟ قَالَ: عِنْدِي يَا مُحَمَّدُ خَيْرٌ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، قَالَ: أَطْلِقُوا ثُمَامَةَ".
ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے لیث نے بیان کیا، ان سے سعید بن ابی سعید نے اور انہوں نے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند سواروں کا ایک لشکر نجد کی طرف بھیجا۔ یہ لوگ بنو حنیفہ کے ایک شخص کو جس کا نام ثمامہ بن اثال تھا اور جو اہل یمامہ کا سردار تھا، پکڑ لائے اور اسے مسجد نبوی کے ایک ستون میں باندھ دیا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا، ثمامہ! تو کس خیال میں ہے؟ انہوں نے کہا اے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں اچھا ہوں۔ پھر انہوں نے پوری حدیث ذکر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ثمامہ کو چھوڑ دو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْخُصُومَاتِ/حدیث: 2422]
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجد کی طرف ایک دستہ روانہ کیا تو وہ لوگ قبیلہ بنی حنیفہ کا ایک آدمی پکڑ لائے، وہ اہل یمامہ کا سردار ثمامہ بن اثال تھا، انہوں نے اسے مسجد کے ایک ستون سے باندھ دیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے پاس تشریف لے گئے اور پوچھا: ”اے ثمامہ! اب تمہارے مزاج کا کیا حال ہے؟“ اس نے کہا: اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! میرے پاس تو اب خیر ہی خیر ہے، اس کے بعد پوری حدیث کا ذکر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ثمامہ کو آزاد کر دو۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْخُصُومَاتِ/حدیث: 2422]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں