صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
34. بَابُ إِذَا كَسَرَ قَصْعَةً أَوْ شَيْئًا لِغَيْرِهِ:
باب: جس کسی شخص نے کسی دوسرے کا پیالہ یا کوئی اور چیز توڑ دی تو کیا حکم ہے؟
حدیث نمبر: 2481
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ عِنْدَ بَعْضِ نِسَائِهِ، فَأَرْسَلَتْ إِحْدَى أُمَّهَاتِ الْمُؤْمِنِينَ مَعَ خَادِمٍ بِقَصْعَةٍ فِيهَا طَعَامٌ، فَضَرَبَتْ بِيَدِهَا فَكَسَرَتِ الْقَصْعَةَ، فَضَمَّهَا وَجَعَلَ فِيهَا الطَّعَامَ، وَقَالَ: كُلُوا، وَحَبَسَ الرَّسُولَ وَالْقَصْعَةَ حَتَّى فَرَغُوا، فَدَفَعَ الْقَصْعَةَ الصَّحِيحَةَ وَحَبَسَ الْمَكْسُورَةَ". وَقَالَ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ: أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، حَدَّثَنَا أَنَسٌ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ہم سے مسدد نے بیان کیا، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے بیان کیا، ان سے حمید نے اور ان سے انس رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ازواج مطہرات میں سے کسی ایک کے یہاں تشریف رکھتے تھے۔ امہات المؤمنین میں سے ایک نے وہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے خادم کے ہاتھ ایک پیالے میں کچھ کھانے کی چیز بھجوائی۔ انہوں نے ایک ہاتھ اس پیالے پر مارا، اور پیالہ (گر کر) ٹوٹ گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے کو جوڑا اور جو کھانے کی چیز تھی اس میں دوبارہ رکھ کر صحابہ سے فرمایا کہ کھاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ لانے والے (خادم) کو روک لیا اور پیالہ بھی نہیں بھیجا۔ بلکہ جب (کھانے سے) سب فارغ ہو گئے تو دوسرا اچھا پیالہ بھجوا دیا اور جو ٹوٹ گیا تھا اسے نہیں بھجوایا۔ ابن ابی مریم نے بیان کیا کہ ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، ان سے حمید نے بیان کیا، ان سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَظَالِمِ/حدیث: 2481]
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی کسی زوجہ محترمہ کے پاس تھے۔ اتنے میں کسی دوسری زوجہ محترمہ نے اپنے خادم کے ہاتھ ایک پیالہ بھیجا جس میں کھانا تھا، تو اس بیوی (جس کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے) نے ہاتھ مار کر پیالہ توڑ ڈالا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالہ اٹھا کر اسے جوڑا اور اس کے اندر کھانا رکھ کر فرمایا: ”کھانا کھاؤ۔“ اس دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس قاصد اور پیالے کو روکے رکھا۔ جب کھانے سے فارغ ہوئے تو شکستہ (ٹوٹا ہوا) پیالہ رکھ لیا اور صحیح پیالہ واپس کر دیا۔ ابن ابی مریم نے کہا: ہمیں یحییٰ بن ایوب نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہم سے حمید نے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہمیں حضرت انس رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْمَظَالِمِ/حدیث: 2481]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة