🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Our Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. بَابُ مَا يَجُوزُ مِنْ شُرُوطِ الْمُكَاتَبِ إِذَا رَضِيَ بِالْبَيْعِ عَلَى أَنْ يُعْتَقَ:
باب: اگر مکاتب اپنی بیع پر اس لیے راضی ہو جائے کہ اسے آزاد کر دیا جائے گا تو اس کے ساتھ جو شرائط جائز ہو سکتی ہیں ان کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2726
حَدَّثَنَا خَلَّادُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ أَيْمَنَ الْمَكِّيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَيَّ بَرِيرَةُ وَهِيَ مُكَاتَبَةٌ، فَقَالَتْ: يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ، اشْتَرِينِي، فَإِنَّ أَهْلِي يَبِيعُونِي فَأَعْتِقِينِي، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَتْ: إِنَّ أَهْلِي لَا يَبِيعُونِي حَتَّى يَشْتَرِطُوا وَلَائِي، قَالَتْ: لَا حَاجَةَ لِي فِيكِ، فَسَمِعَ ذَلِكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَوْ بَلَغَهُ، فَقَالَ: مَا شَأْنُ بَرِيرَةَ؟ فَقَالَ: اشْتَرِيهَا فَأَعْتِقِيهَا، وَلْيَشْتَرِطُوا مَا شَاءُوا، قَالَتْ: فَاشْتَرَيْتُهَا فَأَعْتَقْتُهَا، وَاشْتَرَطَ أَهْلُهَا وَلَاءَهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْوَلَاءُ لِمَنْ أَعْتَقَ، وَإِنِ اشْتَرَطُوا مِائَةَ شَرْطٍ".
ہم سے خلاد بن یحییٰ نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن ایمن مکی نے بیان کیا، ان سے ان کے باپ نے بیان کیا کہ میں عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے بتلایا کہ بریرہ رضی اللہ عنہ میرے یہاں آئیں، انہوں نے کتابت کا معاملہ کر لیا تھا۔ مجھ سے کہنے لگیں کہ اے ام المؤمنین! مجھے آپ خرید لیں، کیونکہ میرے مالک مجھے بیچنے پر آمادہ ہیں، پھر آپ مجھے آزاد کر دینا۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ ہاں (میں ایسا کر لوں گی) لیکن بریرہ رضی اللہ عنہا نے پھر کہا کہ میرے مالک مجھے اسی وقت بیچیں گے جب وہ ولاء کی شرط اپنے لیے لگا لیں۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا کہ پھر مجھے ضرورت نہیں ہے۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا، یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا (راوی کو شبہ تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بریرہ (رضی اللہ عنہا) کا کیا معاملہ ہے؟ تم انہیں خرید کر آزاد کر دو، وہ لوگ جو چاہیں شرط لگا لیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے بریرہ کو خرید کر آزاد کر دیا اور اس کے مالک نے ولاء کی شرط اپنے لیے محفوظ رکھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی فرمایا کہ ولاء اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے (دوسرے) جو چاہیں شرط لگاتے رہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2726]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا میرے پاس آئیں جبکہ وہ مکاتبہ تھیں، عرض کیا: ام المومنین! آپ مجھے خرید لیں کیونکہ میرے مالک مجھے فروخت کرنا چاہتے ہیں، پھر آپ مجھے آزاد کر دیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ٹھیک ہے۔ حضرت بریرہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میرے مالکان مجھے فروخت کرنے پر راضی تو ہیں لیکن وہ اپنے لیے ولا کی شرط لگاتے ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: پھر مجھے تیرے متعلق کوئی دلچسپی نہیں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ واقعہ خود سنا یا کسی نے آپ کو آگاہ کیا تو آپ نے فرمایا: ”بریرہ رضی اللہ عنہا کا کیا ماجرا ہے؟“ (حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بتایا تو) آپ نے فرمایا: ”اسے خرید لو اور آزاد کرو، وہ لوگ جو چاہیں شرطیں لگاتے پھریں۔“ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: میں نے اسے خرید کر آزاد کر دیا لیکن اس کے مالکان نے ولا کی شرط کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ولا تو اس کا حق ہے جو اس کو آزاد کرے اگرچہ مالکان سو شرطیں بھی لگا دیں (ان کا کچھ اعتبار نہیں)۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الشُّرُوطِ/حدیث: 2726]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں