🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

67. بَابُ مَا يَقَعُ مِنَ النَّجَاسَاتِ فِي السَّمْنِ وَالْمَاءِ:
باب: ان نجاستوں کے بارے میں جو گھی اور پانی میں گر جائیں۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q235
وَقَالَ الزُّهْرِيُّ: لَا بَأْسَ بِالْمَاءِ مَا لَمْ يُغَيِّرْهُ طَعْمٌ أَوْ رِيحٌ أَوْ لَوْنٌ، وَقَالَ حَمَّادٌ: لَا بَأْسَ بِرِيشِ الْمَيْتَةِ، وَقَالَ الزُّهْرِيُّ فِي عِظَامِ الْمَوْتَى نَحْوَ الْفِيلِ وَغَيْرِهِ: أَدْرَكْتُ نَاسًا مِنْ سَلَفِ الْعُلَمَاءِ يَمْتَشِطُونَ بِهَا وَيَدَّهِنُونَ فِيهَا لَا يَرَوْنَ بِهِ بَأْسًا وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ، وَإِبْرَاهِيمُ: وَلَا بَأْسَ بِتِجَارَةِ الْعَاجِ.
‏‏‏‏ زہری نے کہا کہ جب تک پانی کی بو، ذائقہ اور رنگ نہ بدلے، اس میں کچھ حرج نہیں اور حماد کہتے ہیں کہ (پانی میں) مردار پرندوں کے پر (پڑ جانے) سے کچھ حرج نہیں ہوتا۔ مردوں کی جیسے ہاتھی وغیرہ کی ہڈیاں اس کے بارے میں زہری کہتے ہیں کہ میں نے پہلے لوگوں کو علماء سلف میں سے ان کی کنگھیاں کرتے اور ان (کے برتنوں) میں تیل رکھتے ہوئے دیکھا ہے، وہ اس میں کچھ حرج نہیں سمجھتے تھے۔ ابن سیرین اور ابراہیم کہتے ہیں کہ ہاتھی کے دانت کی تجارت میں کچھ حرج نہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: Q235]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 235
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ؟ فَقَالَ:" أَلْقُوهَا وَمَا حَوْلَهَا، فَاطْرَحُوهُ وَكُلُوا سَمْنَكُمْ".
ہم سے اسماعیل نے بیان کیا، انہوں نے کہا مجھ کو مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے روایت کی، وہ عبیداللہ بن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چوہے کے بارہ میں پوچھا گیا جو گھی میں گر گیا تھا۔ فرمایا اس کو نکال دو اور اس کے آس پاس (کے گھی) کو نکال پھینکو اور اپنا (باقی) گھی استعمال کرو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 235]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک چوہیا کے متعلق پوچھا گیا جو گھی میں گر گئی تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے نکال دو اور اس کے قریب جس قدر گھی ہو اسے بھی پھینک دو، پھر اپنا باقی گھی استعمال کر لو۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 236
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْنٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ فَأْرَةٍ سَقَطَتْ فِي سَمْنٍ؟ فَقَالَ:" خُذُوهَا وَمَا حَوْلَهَا فَاطْرَحُوهُ"، قَالَ مَعْنٌ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ مَا لَا أُحْصِيهِ، يَقُولُ: عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ.
ہم سے علی بن عبداللہ نے بیان کیا، کہا ہم سے معن نے، کہا ہم سے مالک نے ابن شہاب کے واسطے سے بیان کیا، وہ عبیداللہ ابن عبداللہ بن عتبہ بن مسعود سے، وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے چوہے کے بارے میں دریافت کیا گیا جو گھی میں گر گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس چوہے کو اور اس کے آس پاس کے گھی کو نکال کر پھینک دو۔ معن کہتے ہیں کہ مالک نے اتنی بار کہ میں گن نہیں سکتا (یہ حدیث) ابن عباس سے اور انہوں نے میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی ہے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 236]
حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا ہی سے روایت ہے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ چوہا اگر گھی میں گر پڑے تو کیا کریں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: چوہے کو اور اس کے آس پاس کے گھی کو پھینک دو۔ حضرت معن کہتے ہیں: امام مالک رحمہ اللہ نے ہمیں کئی مرتبہ یہ حدیث بیان کی اور وہ یوں کہتے تھے: «عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ مَيْمُونَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا» عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے، وہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 237
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ هَمَّامِ بْنِ مُنَبِّهٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" كُلُّ كَلْمٍ يُكْلَمُهُ الْمُسْلِمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَكُونُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَهَيْئَتِهَا، إِذْ طُعِنَتْ تَفَجَّرُ دَمًا اللَّوْنُ لَوْنُ الدَّمِ، وَالْعَرْفُ عَرْفُ الْمِسْكِ".
ہم سے احمد بن محمد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہمیں عبداللہ نے خبر دی، انہوں نے کہا مجھے معمر نے ہمام بن منبہ سے خبر دی اور وہ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر زخم جو اللہ کی راہ میں مسلمان کو لگے وہ قیامت کے دن اسی حالت میں ہو گا جس طرح وہ لگا تھا۔ اس میں سے خون بہتا ہو گا۔ جس کا رنگ (تو) خون کا سا ہو گا اور خوشبو مشک کی سی ہو گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 237]
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، آپ نے فرمایا: اللہ کی راہ میں مسلمان کو جو زخم لگتا ہے، قیامت کے دن وہ اپنی اصلی حالت میں ہو گا جیسے زخم لگتے وقت تھا، خون بہہ رہا ہو گا، اس کا رنگ تو خون جیسا ہو گا مگر خوشبو کستوری کی طرح ہو گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 237]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں