صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
72. بَابُ غَسْلِ الْمَرْأَةِ أَبَاهَا الدَّمَ عَنْ وَجْهِهِ:
باب: عورت کا اپنے باپ کے چہرے سے خون دھونا جائز ہے۔
حدیث نمبر: Q243
وَقَالَ أَبُو الْعَالِيَةِ: امْسَحُوا عَلَى رِجْلِي فَإِنَّهَا مَرِيضَةٌ.
ابوالعالیہ نے (اپنے لڑکوں سے) کہا کہ میرے پیروں پر مالش کرو کیونکہ وہ مریض ہو گئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: Q243]
حدیث نمبر: 243
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، سَمِعَ سَهْلَ بْنَ سَعْدٍ السَّاعِدِيَّ وَسَأَلَهُ النَّاسُ، وما بيني وبينه أحد بأي شيء دووي جرح النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: مَا بَقِيَ أَحَدٌ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي،" كَانَ عَلِيٌّ يَجِيءُ بِتُرْسِهِ فِيهِ مَاءٌ، وَفَاطِمَةُ تَغْسِلُ عَنْ وَجْهِهِ الدَّمَ، فَأُخِذَ حَصِيرٌ فَأُحْرِقَ فَحُشِيَ بِهِ جُرْحُهُ".
ہم سے محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے سفیان بن عیینہ نے ابن ابی حازم کے واسطے سے نقل کیا، انہوں نے سہل بن سعد الساعدی سے سنا کہ لوگوں نے ان سے پوچھا، اور (میں اس وقت سہل کے اتنا قریب تھا کہ) میرے اور ان کے درمیان کوئی دوسرا حائل نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے (احد کے) زخم کا علاج کس دوا سے کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بات کا جاننے والا (اب) مجھ سے زیادہ کوئی نہیں رہا۔ علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لاتے اور فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے خون دھوتیں پھر ایک بوریا کا ٹکڑا جلایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم میں بھر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 243]
حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، لوگوں نے ان سے سوال کیا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زخم پر کون سی دوا استعمال کی گئی تھی؟ انہوں نے فرمایا: اس کے متعلق مجھ سے زیادہ جاننے والا کوئی شخص نہیں رہا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنی ڈھال میں پانی لاتے تھے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا آپ کے چہرہ مبارک سے خون دھوتی تھیں۔ پھر ایک بوریا لایا گیا اور اسے جلانے کے بعد اس کی راکھ کو آپ کے زخم میں بھر دیا گیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوُضُوءِ/حدیث: 243]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة