صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
41. بَابُ هَلْ يُبْعَثُ الطَّلِيعَةُ وَحْدَهُ:
باب: کیا جاسوسی کے لیے کسی ایک شخص کو بھیجا جا سکتا ہے؟
حدیث نمبر: 2847
حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُنْكَدِرِ، سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: نَدَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ، قَالَ: صَدَقَةُ أَظُنُّهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، ثُمَّ نَدَبَ النَّاسَ فَانْتَدَبَ الزُّبَيْرُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"إِنَّ لِكُلِّ نَبِيٍّ حَوَارِيًّا، وَإِنَّ حَوَارِيَّ الزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ".
ہم سے صدقہ نے بیان کیا ‘ کہا ہم کو ابن عیینہ نے خبر دی ‘ کہا ہم سے ابن منکدر نے بیان کیا ‘ انہوں نے جابر بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ‘ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو (بنی قریظہ کی طرف خبر لانے کے لیے) دعوت دی۔ صدقہ (امام بخاری رحمہ اللہ کے استاد) نے کہا کہ میرا خیال ہے یہ غزوہ خندق کا واقعہ ہے۔ تو زبیر رضی اللہ عنہ نے اس پر لبیک کہا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور زبیر رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا پھر تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلایا اور اس مرتبہ بھی زبیر رضی اللہ عنہ نے لبیک کہا۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر نبی کے حواری ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر بن عوام ہیں۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2847]
حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کام کے لیے لوگوں کو پکارا۔ راوی کہتے ہیں کہ میرے خیال کے مطابق یہ غزوہ خندق کا واقعہ ہے، تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا، پھر آواز دی تو حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہی نے جواب دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تیسری مرتبہ) پکارا تو بھی حضرت زبیر رضی اللہ عنہ ہی نے جواب دیا۔ بہر حال تینوں مرتبہ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر نبی کا ایک خاص آدمی (مخلص ساتھی) ہوتا ہے، میرا خاص آدمی حضرت زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ ہے۔“ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2847]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة