صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
90. بَابُ الْجُبَّةِ فِي السَّفَرِ وَالْحَرْبِ:
باب: سفر میں اور لڑائی میں چغہ پہننے کا بیان۔
حدیث نمبر: 2918
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي الضُّحَى مُسْلِمٍ هُوَ ابْنُ صُبَيْحٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" لِحَاجَتِهِ ثُمَّ أَقْبَلَ فَلَقِيتُهُ بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَأْمِيَّةٌ فَمَضْمَضَ، وَاسْتَنْشَقَ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهِ فَكَانَا ضَيِّقَيْنِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتُ فَغَسَلَهُمَا، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَعَلَى خُفَّيْهِ".
ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے بیان کیا، ان سے ابوالضحیٰ، مسلم نے، جو صبیح کے صاحبزاے ہیں، ان سے مسروق نے بیان کیا اور ان سے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس ہوئے تو میں پانی لے کر خدمت میں حاضر ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم شامی جبہ پہنے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرہ پاک کو دھویا۔ اس کے بعد (ہاتھ دھونے کے لیے) آستین چڑھانے کی کوشش کی لیکن آستین تنگ تھی اس لیے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا پھر انہیں دھویا اور سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں ہر دو کا بھی مسح کیا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2918]
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے باہر تشریف لے گئے۔ جب آپ واپس ہوئے تو میں پانی لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ اس وقت شامی جُبَّہ زیب تن کیے ہوئے تھے۔ آپ نے وضو کیا اس طرح کہ کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا اور اپنے چہرے کو دھویا۔ اس کے بعد بازو دھونے کے لیے آستینیں چڑھانے کی کوشش کی لیکن وہ تنگ تھیں، اس لیے آپ نے اپنے ہاتھوں کو نیچے سے نکالا، پھر انہیں دھویا۔ بعد ازاں اپنے سر کا مسح کیا اور دونوں موزوں پر بھی مسح فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِهَادِ وَالسِّيَرِ/حدیث: 2918]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة