صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ تَفْرِيقِ الْغُسْلِ وَالْوُضُوءِ:
باب: اس بیان میں کہ غسل اور وضو کے درمیان فصل کرنا بھی جائز ہے۔
حدیث نمبر: Q265
وَيُذْكَرُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ غَسَلَ قَدَمَيْهِ بَعْدَ مَا جَفَّ وَضُوءُهُ.
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ انہوں نے اپنے قدموں کو وضو کردہ اعضاء کے خشک ہونے کے بعد دھویا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: Q265]
حدیث نمبر: 265
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَحْبُوبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَتْ مَيْمُونَةُ:" وَضَعْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَاءً يَغْتَسِلُ بِهِ، فَأَفْرَغَ عَلَى يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ بِيَمِينِهِ عَلَى شِمَالِهِ فَغَسَلَ مَذَاكِيرَهُ، ثُمَّ دَلَكَ يَدَهُ بِالْأَرْضِ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ وَغَسَلَ رَأْسَهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ أَفْرَغَ عَلَى جَسَدِهِ، ثُمَّ تَنَحَّى مِنْ مَقَامِهِ فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ".
ہم سے محمد بن محبوب نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، انہوں نے کہا ہم سے اعمش نے سالم بن ابی الجعد کے واسطے سے بیان کیا، انہوں نے کریب مولیٰ ابن عباس سے، انہوں نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کہ میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلے پانی اپنے ہاتھوں پر گرا کر انہیں دو یا تین بار دھویا۔ پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں پر گرا کر اپنی شرمگاہوں کو دھویا۔ پھر ہاتھ کو زمین پر رگڑا۔ پھر کلی کی اور ناک میں پانی ڈالا پھر اپنے چہرے اور ہاتھوں کو دھویا۔ پھر اپنے سر کو تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سارے بدن پر پانی بہایا، پھر آپ اپنی غسل کی جگہ سے الگ ہو گئے۔ پھر اپنے قدموں کو دھویا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 265]
حضرت میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے غسل کا پانی رکھا اور پردہ کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے (دائیں ہاتھ سے بائیں) ہاتھ پر پانی ڈالا، پھر اسے ایک یا دو مرتبہ دھویا۔ حضرت سلیمان اعمش کہتے ہیں: مجھے یاد نہیں، سالم نے تیسری مرتبہ کا ذکر کیا یا نہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور اپنی شرمگاہ کو دھویا، پھر زمین یا دیوار سے اپنا ہاتھ رگڑا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کلی کی اور ناک میں پانی چڑھایا، اور اپنے چہرہ مبارک اور ہاتھوں کو دھویا اور سر کو دھویا، پھر بدن پر پانی بہایا۔ اس کے بعد ایک طرف ہٹ کر اپنے دونوں پاؤں دھوئے۔ بعد ازاں میں نے ایک کپڑا دیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اس طرح اشارہ فرمایا اور اس کے لینے کا ارادہ نہیں فرمایا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْغُسْل/حدیث: 265]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث:
أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة