🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

12. بَابُ الْمُوَادَعَةِ وَالْمُصَالَحَةِ مَعَ الْمُشْرِكِينَ بِالْمَالِ وَغَيْرِهِ، وَإِثْمِ مَنْ لَمْ يَفِ بِالْعَهْدِ:
باب: مشرکوں سے مال وغیرہ پر صلح کرنا، لڑائی چھوڑ دینا، اور جو کوئی عہد پورا نہ کرے اس کا گناہ۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q3173
وَقَوْلِهِ: {وَإِنْ جَنَحُوا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَهَا} الآيَةَ.
‏‏‏‏ اور (سورۃ الانفال میں) اللہ کا یہ فرمانا «وإن جنحوا للسلم فاجنح لها‏» اگر کافر صلح کی طرف جھکیں تو تو بھی صلح کی طرف جھک جا۔ اخیر آیت تک۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: Q3173]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3173
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا بِشْرٌ هُوَ ابْنُ الْمُفَضَّلِ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ، قَالَ: انْطَلَقَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلٍ ومُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنِ زَيْدٍ إِلَى خَيْبَرَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ فَتَفَرَّقَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمٍ قَتِيلًا فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، فَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ وَمُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ ابْنَا مَسْعُودٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ، فَقَالَ: كَبِّرْ كَبِّرْ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا، فَقَالَ:" أَتَحْلِفُونَ وَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ أَوْ صَاحِبَكُمْ، قَالُوا: وَكَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ، قَالَ: فَتُبْرِيكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ، فَقَالُوا: كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ فَعَقَلَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا ہم سے بشر بن مفضل نے، کہا ہم سے یحییٰ بن سعید انصاری نے، ان سے بشیر بن یسار نے اور ان سے سہل بن ابی حثمہ نے بیان کیا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر گئے۔ ان دنوں (خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی) صلح تھی۔ پھر دونوں حضرات (خیبر پہنچ کر اپنے اپنے کام کے لیے) جدا ہو گئے۔ اس کے بعد محیصہ رضی اللہ عنہ عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ خون میں لوٹ رہے ہیں۔ کسی نے ان کو قتل کر ڈالا، خیر محیصہ رضی اللہ عنہ نے عبداللہ رضی اللہ عنہ کو دفن کر دیا۔ پھر مدینہ آئے، اس کے بعد عبدالرحمٰن بن سہل (عبداللہ رضی اللہ عنہ کے بھائی) اور مسعود کے دونوں صاحبزادے محیصہ اور حویصہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، گفتگو عبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ نے شروع کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، کہ جو تم لوگوں میں عمر میں بڑے ہوں وہ بات کریں۔ عبدالرحمٰن سب سے کم عمر تھے، وہ چپ ہو گئے۔ اور محیصہ اور حویصہ نے بات شروع کی۔ آپ نے دریافت کیا، کیا تم لوگ اس پر قسم کھا سکتے ہو، کہ جس شخص کو تم قاتل کہہ رہے ہو اس پر تمہارا حق ثابت ہو سکے۔ ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہم ایک ایسے معاملے میں کس طرح قسم کھا سکتے ہیں جس کو ہم نے خود اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پھر کیا یہود تمہارے دعوے سے اپنی برات اپنی طرف سے پچاس قسمیں کھا کر کے کر دیں؟ ان لوگوں نے عرض کیا کہ کفار کی قسموں کا ہم کس طرح اعتبار کر سکتے ہیں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کو دیت ادا کر دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3173]
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید رضی اللہ عنہما خیبر کی طرف گئے جبکہ ان دنوں یہودیوں سے صلح تھی۔ وہاں پہنچ کر دونوں جدا جدا ہو گئے، پھر جب محیصہ رضی اللہ عنہ، عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ اپنے خون میں لت پت ہیں، کسی نے ان کو قتل کر ڈالا ہے۔ محیصہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دفن کر دیا۔ اس کے بعد وہ مدینہ طیبہ آئے تو عبدالرحمن بن سہل اور محیصہ و حویصہ (جو مسعود کے بیٹے تھے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ عبدالرحمن نے بات کرنا چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بڑے کو بات کرنے دو۔ چونکہ وہ سب سے چھوٹے تھے، اس لیے خاموش ہو گئے۔ تب حویصہ اور محیصہ رضی اللہ عنہما نے گفتگو کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قسم اٹھا کر قاتل یا اپنے ساتھی کے خون کا استحقاق ثابت کرو گے؟ انہوں نے عرض کیا: ہم کیونکر قسم اٹھا سکتے ہیں جبکہ ہم وہاں موجود نہ تھے اور نہ ہم نے انہیں دیکھا ہی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر یہودی پچاس قسمیں اٹھا کر اپنی براءت کر لیں گے۔ انہوں نے عرض کیا: وہ تو کافر ہیں، ہم ان کی قسموں کا کیسے اعتبار کریں؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے پاس سے ان کی دیت ادا کر دی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْجِزْيَةِ والموادعہ/حدیث: 3173]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں