🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

مشرکوں سے مال وغیرہ پر صلح کرنا، لڑائی چھوڑ دینا (جائز ہے) اور اس شخص کا گناہ بہت سخت ہے جو عہد کو پورا نہ کرے۔
سیدنا سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن سہل اور محیصہ بن مسعود بن زید خیبر گئے اور ان دنوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہودیوں کی صلح تھی۔ پھر وہ دونوں (کسی ضرورت سے) جدا ہو گئے تو پھر محیصہ جو عبداللہ بن سہل کے پاس آئے تو دیکھا کہ وہ اپنے خون میں لت پت ہے، کسی نے اس کو قتل کر ڈالا خیر محیصہ نے اس کو دفن کیا پھر مدینہ میں آئے۔ عبدالرحمن بن سہل (عبداللہ بن سہل) مقتول کے بھائی اور محیصہ اور ان کے بھائی حویصہ جو مسعود کے بیٹے تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے۔ عبدالرحمن نے گفتگو شروع کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا: بڑے کو بولنے دو، بڑے کو بات کرنے دو۔ عبدالرحمن تینوں میں کم سن تھے، یہ سن کر وہ خاموش ہو گئے، تب محیصہ اور حویصہ نے گفتگو کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیا چاہتے ہو؟ یا تو قسم کھاؤ کہ عبداﷲ کو فلاں شخص نے مارا ہے اور قاتل پر اپنا حق ثابت کر لو۔ انھوں نے عرض کی کہ ہم کیونکر قسم کھائیں؟ ہم نے تو آنکھ سے نہیں دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تو پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر اپنی برات کر لیں گے۔ انھوں نے عرض کی کہ وہ تو کافر ہیں، ہم ان کی قسموں پر کیسے اعتبار کریں؟ آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن کی دیت اپنے پاس سے ادا کر دی۔ (رضی اللہ عنہ) [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1343]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں