مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حلیہ مبارک اور اخلاق کا بیان۔
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں (آدم علیہ السلام سے لے کر) برابر آدمیوں کے بہتر قرنوں میں ہوتا آیا (یعنی شریف اور پاکیزہ نسلوں میں) یہاں تک کہ وہ قرن آیا جس میں میں پیدا ہوا۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1489]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (شروع میں) پیشانی کے بال سامنے لٹکاتے اور مشرک لوگ مانگ نکالا کرتے۔ اہل کتاب بالوں کو لٹکاتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس بات میں کوئی حکم نہ آتا تو اہل کتاب کی موافقت (بہ نسبت مشرکوں کے) پسند فرماتے پھر اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سر میں مانگ نکالنے لگے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1490]
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فحش گو نہ تھے اور نہ ہی بدزبان بنتے اور فرماتے۔“ تم میں بہتر لوگ وہی ہیں جن کے اخلاق اچھے ہوں۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1491]
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انھوں نے کہا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دو باتوں میں اختیار دیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اختیار کرتے جو آسان ہوتی بشرطیکہ گناہ نہ ہو، اگر گناہ ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ اس سے الگ رہتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی سے اپنی ذات کے لیے بدلا نہیں لیا، بلکہ جب اللہ کے حکم کو کوئی ذلیل کرتا تو اللہ کے لیے اس سے بدلا لیا کرتے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1492]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے ریشم اور کوئی (بھی) باریک کپڑا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتھیلی سے زیادہ ملائم نہیں دیکھا اور نہ کوئی خوشبو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خوشبو سے بہتر سونگھی۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1493]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس لڑکی سے زیادہ حیاء دار تھے جو کنواری ابھی پردے میں رہتی ہے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1494]
ایک روایت میں یوں ہے (شعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں) کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی بات کو برا سمجھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے سے معلوم ہو جاتا۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1495]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دل چاہتا تو اسے کھا لیتے ورنہ چھوڑ دیتے (برائی نہ کرتے)۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1496]
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح (آرام سے اور ٹھہر ٹھہر کر) گفتگو کرتے کہ اگر کوئی گننے والا چاہتا تو ان (الفاظ) کو گن سکتا۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1497]
ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح جلدی جلدی باتیں نہ کیا کرتے تھے جیسے تم کرتے ہو۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1498]