مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
اسلام میں نبوت (پیغمبری) کی نشانیوں کا بیان۔
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص نے سورۃ الکہف پڑھی، ان کے گھر میں گھوڑا بندھا ہوا تھا جو بدکنے لگا تو انھوں نے سلام پھیرا (کیونکہ وہ نماز میں تلاوت کر رہے تھے) کیا دیکھتے ہیں کہ ابر ہے جو سارے گھر میں چھا گیا ہے۔ اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! تو قرآن پڑھتا رہ۔ یہ سکینت ہے جو قرآن پڑھنے کی وجہ سے اتری۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1510]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعرابی کی عیادت کو گئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب کسی بیمار کی عیادت کو جاتے تو فرماتے: ”کوئی فکر نہیں، انشاءاللہ یہ بیماری گناہ سے پاک کر دے گی۔“ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے بھی یہی کہا: ”کوئی فکر نہیں انشاءاللہ یہ بیماری گناہ سے پاک کر دے گی۔“ اس نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ فکر نہیں، نہیں ایسا ہرگز نہیں ہے یہاں تو یہ حال ہے کہ بخار ایک بوڑھے شخص پر جوش مار رہا ہے یا زور کر رہا ہے جو قبر میں لے جائے بغیر نہیں چھوڑے گا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو ایسا ہو گا۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1511]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک شخص عیسائی تھا، پھر وہ مسلمان ہو گیا اور سورۃ البقرہ اور آل عمران پڑھ لی اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے (وحی) لکھا کرتا تھا۔ پھر وہ دوبارہ عیسائی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کیا جانیں میں جو ان کو لکھ دیتا وہی جانتے۔ پھر اللہ نے اسے موت دی تو لوگوں نے اسے دفن کر دیا، صبح ہوئی تو اس کی لاش زمین کے باہر پڑی ہوئی تھی۔ (عیسائی) لوگ کہنے لگے کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اصحاب کا کام ہے، جب ان کو چھوڑ کر بھاگ آیا تو انھوں نے رات کو آ کر قبر کھود کر ہمارے ساتھی کی لاش کو باہر پھینک دیا۔ آخر انھوں نے بہت گہری قبر کھودی اور اس کی لاش دوبارہ گاڑھی، پھر صبح کو انھوں نے دیکھا کہ زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی ہے تو کہنے لگے کہ یہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ان کے اصحاب کا کام ہے، انھوں نے ہمارے ساتھی کی قبر کھودی اور اسے باہر پھینک دیا کیونکہ یہ انھیں چھوڑ کر بھاگ آیا تھا۔ پھر (سہ بارہ) انھوں نے اور گہری قبر کھود کر، جہاں تک گہری کر سکے اس کو گاڑھ دیا، لیکن صبح کو پھر دیکھا کہ زمین نے اس کی لاش باہر پھینک دی ہے، جب انھیں یہ یقین ہو گیا کہ یہ کسی انسان کا کام نہیں ہے (بلکہ اللہ کا غضب ہے) تو اس کی لاش کو (میدان میں) پھینک دیا۔ (یا یوں ہی چھوڑ دیا)۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1512]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تمہارے پاس قالین ہیں؟“ میں نے کہا (ہم غریب لوگ ہیں) ہمارے پاس قالین کہاں سے آئے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لیکن عنقریب تمہارے پاس (عمدہ) قالین ہوں گے۔“ اب میں اپنی بیوی سے کہتا ہوں کہ چل اپنا قالین ہمارے پاس سے ہٹا دے تو وہ کہتی ہے کہ کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا تھا: ”عنقریب تمہارے پاس قالین ہوں گے۔“ تو میں چپ ہو جاتا ہوں۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1513]
سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے امیہ بن خلف سے کہا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ تمہیں قتل کر دیں گے۔ امیہ نے کہا کہ کیا مجھے؟ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہاں۔ امیہ نے کہا کہ اللہ کی قسم! محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بات جھوٹی نہیں ہوتی۔ پس اللہ تعالیٰ نے اسے بدر کے دن قتل کرا دیا۔ اس حدیث میں ایک واقعہ بھی ہے مگر اصل حدیث کا مضمون یہی ہے۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1514]
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اس وقت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا موجود تھیں، وہ (جبرائیل، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے) باتیں کرنے لگے پھر اٹھ (کر چلے) گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ (کیا تم جانتی ہو) یہ کون تھے؟ (یا اسی طرح کا سوال کیا) تو انھوں نے کہا کہ یہ دحیہ کلبی تھے (جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے)۔ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اللہ کی قسم! میں تو انھیں دحیہ ہی سمجھتی تھی یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو خطبہ دیا اور جبرائیل علیہ السلام کا حوالہ دے رہے تھے (اور) خطبہ میں وہ باتیں سنائیں جو جبرائیل علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کی تھیں۔ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1515]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے (خواب میں) لوگوں کو دیکھا کہ ایک میدان میں جمع ہیں، پس ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کنویں سے ایک یا دو ڈول نکالے مگر ناتوانی کے ساتھ، اللہ ان کو بخشے۔ پھر عمر (بن خطاب) نے وہ ڈول سنبھالا تو ان کے ہاتھ میں جاتے ہی وہ (ڈول) ایک بڑا (موٹھ کا) ڈول ہو گیا۔ میں نے ایسا شہ زور پہلوان، ان کی طرح کام کرنے والا نہیں دیکھا، اتنا پانی نکالا کہ لوگ اپنے اونٹوں کو بھی پلا پلا کر ان کے ٹھکانوں میں لے گئے۔“ [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1516]