🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
مختصر صحيح بخاري سے متعلقہ
تمام کتب
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

اللہ تعالیٰ کا قول ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو اس حسرت و افسوس کے دن سے ڈرایے ....“ (سورۃ مریم: 39)۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن موت ایسے مینڈھے کی صورت میں لائی جائے گی، جو چتکبرا ہو گا، پھر ایک پکارنے والا پکارے گا کہ اے بہشت والو! وہ گردن اٹھائیں گے اور ادھر دیکھیں گے تو وہ (فرشتہ) کہے گا کہ کیا تم اسے پہنچانتے ہو؟ وہ کہیں گے ہاں یہ موت ہے اور سب نے اسے (اپنے مرتے وقت) دیکھا تھا (اس لیے پہچان لیں گے) پھر وہ پکارے گا کہ اے دوزخ والو! وہ بھی گردن اٹھا کر ادھر دیکھیں گے تو وہ (فرشتہ) کہے گا کہ کیا تم اسے پہچانتے ہو؟ وہ کہیں گے ہاں یہ موت ہے، ان سب نے بھی (مرتے وقت) اسے دیکھا تھا پھر اسی وقت موت ذبح کر دی جائے گی اور وہ (فرشتہ) کہے گا کہ اے اہل جنت! تم اب ہمیشہ جنت میں رہو گے، کسی کو موت نہ آئے گی اور اے اہل دوزخ! تم اب ہمیشہ دوزخ میں رہو گے کسی کو موت نہ آئے گی (تب اس وقت دوزخی حسرت کریں گے)۔ پھر (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے) یہ آیت پڑھی (اے محمد!) ان لوگوں کو اس حسرت و افسوس کے دن سے ڈرایے جبکہ کام انجام کو پہنچا دیا جائے گا اور یہ لوگ غفلت ہی میں رہ جائیں گے۔ یعنی دنیا کے لوگ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ اور وہ ایمان نہیں لاتے۔ (سورۃ مریم: 39) [مختصر صحيح بخاري/حدیث: 1755]

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں